مسجدکےمسائل
مسجد کی دُکانوں کی رسید تبدیلی کی رقم مسجد پر خرچ کرنا
سوال:۔
عام طور پر مسجد کی دُکانیں بغیر ایڈوانس کے کرائے پر دی جاتی ہیں، کرائے دار جب جاتے ہیں تو رقم لے کر دُوسرے کو دے جاتے ہیں، اور نام تبدیل نہیں کراتے، اس طرح باہمی لین دین کرکے چلے جاتے ہیں۔ مسجد کمیٹی نے مسجد کے کرائے داران کو اِجازت دے دی ہے کہ آپ اپنی دُکان اس طرح دے سکتے ہیں، رسید کی تبدیلی کے وقت رقم لے کر عطیہ کی رسید کاٹ دی جاتی ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اگر غلط ہے تو جو رقم اس مد میں وصول ہوئی ہے، اور مسجد کے اُوپر خرچ کی جاچکی ہے، اس کا اِزالہ کیسے کیا جائے؟
جواب:۔
اگر یہ دُکانیں مسجد کی ہیں اور دُکان دار مسجد کے کرائے دار ہیں، تو ان کے لئے ان دُکانوں کے پیسے لینا اور اپنے طور پر کسی کے حوالے کردینا جائز نہیں،(۱) اور اگر آپ حضرات اس کو برداشت کرتے ہیں تو آپ بھی گناہگار ہوں گے، کیونکہ آپ ان دُکانوں کے مالک نہیں۔
- (۱) والودیعۃ لَا تودع ولَا تعار ولَا تواجر ولَا ترھن وإن فعل شیئًا منھن ضمن۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۳۳۸، كتاب الودیعۃ، طبع رشیدیہ كوئٹہ)۔

