مسجدکےمسائل
مساجد میں حرام رقم کا اِستعمال جائز نہیں
سوال:۔
سوسائٹی کے علاقے میں بعض ایسی مساجد ہیں جس میں سوسائٹی کے تحت اِنتظامات ہوتے ہیں، مساجد میں دُکانیں وغیرہ ہوتی ہیں، ان سے اِخراجات پورے کئے جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں معلوم ہوا کہ بعض مساجد میں دُکانوں کے کرائے ایڈوانس اور پگڑی کی رُقوم بینک کے اندر ڈپازٹ اسکیم کے تحت رکھوادی جاتی ہیں، اور پھر اس سے جو سود ملتا ہے، اس سے اِخراجات مسجد کے پورے کئے جاتے ہیں، اس سلسلے میں مسجد اِنتظامیہ مختلف اَعذار بیان کرتی ہے، جس میں بینکوں کا غیرسودی ہونا، اور اس منافع کا حلال ہونا، اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے، معاف فرمادیں گے، بیت اللہ میں بتوں کی موجودگی میں نماز ہوجاتی تھی، اس مسجد میں بھی ہوجائے گی، وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح ان مساجد کی دُکانوں میں وڈیو اور فوٹوگرافی والوں کو بھی دُکانیں کرائے پر دی ہیں، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ان رُقوم کو مسجد میں اِستعمال کیا جاسکتا ہے اور اگر کرلیں تو ان مساجد میں نمازوں کا کیا حکم ہے؟ ایسی کمیٹی کے سلسلے میں اِمام، خطیب اور نمازیوں کو کیا رویہ رکھنا چاہئے؟
جواب:۔
اس سوال میں سوسائٹی والوں کا رویہ نہایت لائقِ افسوس ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ انگلینڈ میں ایک سکھ نے اس سے کہا کہ تم مسلمان حرام گوشت کی ایک دُکان کھولو، اور اس پر لکھو: ’’اِسلامی گوشت کی دُکان‘‘ ان صاحب نے اس سکھ کو اس مذاق کا جواب دیا، تو اس نے کہا کہ: تم مسلمان لوگ سود کھاتے ہو تو اِسلامی بینک کہہ کر کے کھاتے ہو، اور دُوسری خرافات کرتے ہو تو اِسلام کے نام سے منسوب کرتے ہو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان مساجد کی اِنتظامیہ کے لوگوں کو پیسے سے غرض ہے، دِین واِیمان سے غرض نہیں۔ اگر یہ واقعات صحیح ہیں جو خط میں درج کئے گئے، تو ان لوگوں کا مسلمان ہونا بھی مشکوک ہے، اور ایسے لوگوں کو مساجد سپرد کرنا ایسا ہی ہے جیسے بیت اللہ کو مشرکینِ مکہ کے سپرد کردیا جائے۔
موجودہ سودی نظام میں ایک صدی سے اس کو حلال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، مگر اب تک تو یہ حلال ہوا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو خدا اور رسول کے ساتھ جنگ قرار دِیا ہے،(۱) اور اس خدا اور رسول کے ساتھ جنگ کا نتیجہ پاکستان کا ہر شخص دیکھ رہا ہے۔
مساجد کی دُکانوں میں ٹی وی اور ویڈیو کی دُکانیں بنانا، یہ بھی حرام ہے، اور ان مولوی صاحبان کو جو ان مساجد میں کام کرتے ہیں، سوال میں ذکر کی گئی مدات سے جو تنخواہ دی جاتی ہے، وہ حلال نہیں۔(۲)
نمازیوں کو چاہئے کہ مسجد کے عملے کا اِنتظام اپنے چندے سے کیا کریں، مسجد کی وہ رقم جو سود سے حاصل کی جاتی ہے، وہ مسجد کے کارکنوں کو نہ دی جائے۔
- (۱) ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٢٧٨ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ ﵞ البقرة ٢٧٨ و ٢٧٩۔
- (۲) لَا تصح الْإجارۃ لعسب التیس وھو ۔۔۔ ولَا لأجل المعاصی مثل الغناء والنوح والملاھی۔ (الدر المختار ج:۶ ص:۵۵، باب الْإجارۃ الفاسدۃ)۔

