مسجدکےمسائل
مسجد میں سونے کی اجازت کس کو ہے؟
سوال:۔
ایک محلے کے مقامی مسجد کے لوگ اسی مسجد میں کن کن حالتوں میں رات ٹھہر سکتے ہیں؟ کیا ان حالتوں اور صورتوں میں یہ بھی صورت شامل ہے کہ بہ نیت اِعتکاف (اِعتکاف کی نیت سے) دِینی دعوت کے سلسلے میں بستر بچھاکر رات سو سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب:۔
مسجد میں ٹھہرنا، سونا اور کھانا پینا معتکف کے لئے جائز ہے،(۱) اور مسجد کا اِعتکاف اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔ مسلمانوں میں رمضان مبارک کے اِعتکاف کا تو رِواج ہے، جو سنتِ مؤکدہ ہے، لیکن غیررمضان میں اِعتکاف کا رِواج نہیں، جو سنتِ مستحبہ ہے۔(۲) اس اِعتکاف کا رِواج ڈالنا چاہئے۔ جس طرح رمضان مبارک والے اِعتکاف میں معتکف کے لئے مسجد میں ٹھہرنا، سونا اور کھانا پینا جائز ہے، یہی حکم نفلی اِعتکاف کا بھی ہے، اور نفلی اِعتکاف کے بھی وہی آداب ہیں جو اِعتکافِ رمضان کے ہیں۔
- (۱) وخص المعتكف بأكل وشرب ونوم عقد احتاج إلیہ لنفسہ أو عیالہ ۔۔۔إلخ۔ وفی الشامیۃ: أن المعتكف مقصور علی الأكل ونحوہ فی المسجد لَا یحل لہ فی غیرہ۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۲ ص:۴۴۸)۔
- (۲) أما تفیسرہ فھو اللبث فی المسجد مع نیۃ الْإعتکاف وینقسم إلٰی واجب وھو المنذور تنجیزًا أو تعلیقًا وإلٰی سنۃ مؤكدۃ وھو فی العشر الأخیر من رمضان وإلٰی مستحب وھو ما سواھما۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۱، الباب السابع فی الْإعتکاف)۔

