مسجدکےمسائل
اِستراحت کے لئے مسجد کے پنکھے کا استعمال بغیر اِجازت صحیح نہیں
سوال:۔
اس دفعہ رمضان شریف گرمیوں میں آرہے ہیں، ہم نے اس سے پہلے والے رمضان میں اکثر دیکھا ہے مقامی آدمیوں کو کہ ظہر سے پہلے مسجد میں آکر سوجاتے ہیں اور بجلی کے پنکھے چلواتے ہیں۔ مسجد میں چٹائی یا دری پر کوئی کپڑا نہیں ہوتا، ان لوگوں کا پسینہ مسجد کی دری پر لگتا ہے اور بدبو ہوتی ہے، یا کوئی شخص ظہر کی نماز باجماعت پڑھ کر سنت پنکھے کے نیچے آکر پڑھتا ہے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد وہیں پر لیٹ جاتا ہے اور نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہے، ایسے میں مسجد کی بجلی استعمال کرتا ہے، اس کے لئے کیا حکم ہے؟ اس کو مسجد سے اُٹھادیا جائے یا پنکھا بند کردیں؟ اور مسجد کے آداب کے مطابق اس کا یہ فعل کیسا ہے؟
جواب:۔
مسجد کی بجلی وغیرہ نماز کے اوقات میں استعمال کرنی چاہئے، دیگر اوقات میں اہلِ چندہ منع کرسکتے ہیں۔ (۱) مسجد میں سونا معتکف اور مسافر کے لئے جائز ہے، دُوسروں کے لئے مکروہ ہے۔(۲) جو لوگ مسجد میں نیند کریں ان کو چٹائیوں پر کپڑا بچھالینا چاہئے، تاکہ پسینے سے فرش خراب نہ ہو، اور نیند کی حالت میں ناپاک ہوجانے کا خطرہ نہ رہے۔
- (۱) ولو وقف علٰی دُھن السراج للمسجد لَا یجوز دھنہ جمیع اللیل بل بقدر حاجۃ المصلین ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۲ ص:۴۵۹، كتاب الوقف، الباب الحادی عشر فی المسجد وما یتعلق بہ، الفصل الأوّل)۔
- (۲) والنوم فیہ (المسجد) لغیر المعتكف مكروہ وقیل لَا بأس للغریب أن ینام فیہ، والأولٰی أن ینوی الْإعتکاف لیخرج من الخلاف۔ (حلبی كبیر ص:۶۱۲، فصل فی أحکام المساجد)۔

