مسجدکےمسائل
مسجد کو حفاظت کی خاطر تالا لگانا جائز ہے
سوال:۔
مسجد جو کہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہوتا ہے، اس کو بند کرنے اور کھلا رکھنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیونکہ مسجد تو خدا کا گھر ہوتا ہے، اور اس کو بند کرنے کا حق کسی کو نہیں پہنچتا۔ لیکن بعض لوگ عشاء کی نماز کے بعد مسجد کو تالا لگادیتے ہیں جو کہ میری نگاہ میں غلط ہے۔ کیونکہ کوئی مسافر جو کہ نیا اور بھٹکا ہوا آجائے اور اسے رات ہوجائے تو اسے ہر طرف دروازہ بند نظر آتا ہے تو اس کی نگاہ مسجد پر جاتی ہے تو وہ بھی بند نظر آتی ہے، وہ باہر ہی کسی جگہ سوجاتا ہے اور جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے چور اُچکا سمجھ کر پولیس والے لے جاکر بند کردیتے ہیں جو کہ سراسر ناانصافی ہوتی ہے۔ لیکن اگر آج کل کے حالات کو دیکھا جائے تو ہر طرف بے ضمیر لوگ بھی پھرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جو کہ مسجد کی اشیاء کو بھی نہیں بخشتے، جو کہ اللہ کے گھر کی چیزیں ہوتی ہیں، تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسے لوگوں پر جو کہ اللہ کے گھر کی چیزیں بھی نہ بخشیں، ان پر خدا کی لعنت ہو اور یہی وجہ ہے کہ لوگ مجبوراً مسجد کے دروازوں پر تالے لگادیتے ہیں۔
جواب:۔
حفاظت کی خاطر مسجد میں رات کو تالا لگادینا جائز ہے۔(۱)
- (۱) وكما كرہ (غلق باب المسجد) إلّا لخوف علٰی متاعہ، بہ یفتی (وفی ردالمحتار) (قولہ إلّا لخوف علٰی متاعہ) ھٰذا أولٰی من التقیید بزماننا، لأن المدار علٰی خوف الضرر، فإن ثبت فی زماننا فی جمیع الأوقات ثبت كذٰلك إلّا فی أوقات الصلٰوۃ أو لَا فلا أوفی بعضھا ففی بعضھا ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ شامیۃ ج:۱ ص:۶۵۶، مطلب فی أحکام المسجد، طبع ایچ ایم سعید)۔

