بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

نمازیوں کے ذمہ سلام کا جواب نہیں

سوال:۔

نمازی نیت باندھے کھڑے ہوں، ایک آدمی نماز ادا کرنے مسجد میں داخل ہوا تو اس آدمی کو السلام علیکم کہنا چاہئے یا چپکے سے نیت باندھنا چاہئے؟ اگر السلام علیکم لازمی ہے تو نمازیوں کو جواب دِل میں دینا چاہئے یا نہیں؟

جواب:۔

اگر کوئی شخص فارغ نہ ہو، تو آنے والے کو السلام علیکم نہیں کہنا چاہئے، اور اگر وہ کچھ کہہ دے تو نمازیوں کے ذمہ اس کا جواب نہیں، اس لئے دِل میں بھی جواب دینے کی ضرورت نہیں۔(۱)

  1. (۱) وقد نظم الجلال الأسیوطی التی لَا یجب فیھا رد السلام ونقلھا عنہ الشارح فی ھامش الخزائن: فقال رد السلام واجب إلّا علٰی من فی الصلٰوۃ أو باكل شغلا۔ (فتاویٰ شامیۃ ج:۱ ص:۶۱۸، مطلب المواضع التی لَا یجب فیھا رد السلام)۔