بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

دُوسری مسجد میں نماز پڑھنے کی رُخصت

سوال:۔

میں ایک جامع مسجد کے ساتھ رہتا ہوں، مسجد میں پانچ وقت کی نماز اور جمعہ باقاعدگی سے پڑھائی جاتی ہے، اور میں بھی پابندی سے نماز و جمعہ پڑھتا ہوں۔ چار نمازیں نزدیکی مسجد میں پڑھتا ہوں، البتہ عشاء کی نماز اور جمعہ کی نماز ایک دُوسری مسجد میں جاکر پڑھتا ہوں، محض اس لئے کہ وہاں مولوی صاحب جمعہ کے دن بھی اچھا وعظ کرتے ہیں اور عشاء کی نماز کے بعد قرآن کی تفسیر سمجھاتے ہیں، تو میں ان کے پاس اچھی باتیں سننے جاتا ہوں، جبکہ نزدیک والی مسجد میں ان چیزوں کا فقدان ہے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اپنی نزدیک والی مسجد آباد رکھو، ورنہ گناہ ہوگا۔ آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کرکے سمجھائیں کہ میں کیا کروں؟ دُوسری مسجد میں جانے کا میرا مطمحِ نظر محض دین کا سیکھنا ہے۔

جواب:۔

حق تو قریب والی مسجد ہی کا زیادہ ہے، لیکن اگر دُوسری مسجد میں اچھے عالم ہوں تو وہاں جانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔(۱)

  1. (۱) وذكر قاضیخان وصاحب منیۃ المفتی وغیرھما ان الْاقدام أفضل فإن استویا فی القدم فالأقرب أفضل۔۔۔ والأفضل أن یختار الذی إمامہ أصلح وأفقہ فإن الصلاۃ مع الأفضل أفضل ۔۔۔ ومسجد استادہ لدرسہ أو سماع الأخبار أفضل بالْإتفاق۔ (حلبی كبیر ص:۶۱۳، فصل فی أحکام المساجد، طبع سھیل اكیڈمی)۔