مسجدکےمسائل
نئی مسجد متصل بناکر پہلی کو تالا ڈالنا ناجائز ہے
سوال:۔
حضرتِ والا کی توجہ ایئرپورٹ کی مرکزی جامع مسجد جو کہ کچھ عرصہ قبل تعمیر ہوئی ہے، کے متعلق اس کی شرعی حیثیت جنابِ والا سے معلوم کرنا ہے، اُمید ہے کہ اس مسجد کے متعلق آپ اپنی صائب رائے شائع فرماکر اہالیانِ ایئرپورٹ کی رہنمائی فرمائیں گے۔
برعظیم انڈوپاک کی تقسیم کے بعد ایک کلب کو مسجد میں تبدیل کرکے نماز کے لئے جگہ بنائی گئی، اس کے بعد باقاعدہ چھت ڈال کر مسجد تعمیر کردی گئی، عرصہ چھتیس سال سے مذکورہ مسجد میں نمازِ جمعہ و پنج گانہ نمازیں ادا کی جاتی رہیں، ۱۹۸۳ء میں قطر کے ایک شیخ صاحب نے کئی لاکھ روپے خرچ کرکے ایک مسجد سابقہ مسجد سے تقریباً دو گز چاردیواری کے اندر دُوسری مسجد تعمیر کروادی۔ شیخ صاحب کو مسجد کی انتظامیہ نے جیسا مشورہ دیا ویسا انہوں نے کردیا، اب صورتِ حال یہ ہے کہ پہلی مسجد کو تالا ڈال دیا گیا ہے اور نئی مسجد میں نمازوں کی ادائیگی ہو رہی ہے، بہت سے حضرات نے مسجد کی انتظامیہ کو پہلے ہی مشورہ دیا تھا کہ کم از کم سابقہ مسجد کا صحن ہی نئی مسجد میں شامل کرلیا جائے تاکہ کوئی شرعی مسئلہ کھڑا نہ ہوجائے۔ لیکن انتظامیہ کی چشم پوشی کی وجہ سے دو مسجدیں آمنے سامنے ہیں، پہلی مسجد کے متعلق کبھی سنا جاتا ہے کہ اسے دارالعلوم بنادیا جائے گا یا دینی مدرسہ وغیرہ۔ فی الحال پرانی مسجد کو تالا ہی لگا ہوا ہے، یہاں ان دنوں ایئرفورس والوں کا ایئرپورٹ پر کنٹرول ہے، اور مسجد کا سیکریٹری اصل حالات ایئرپورٹ کی انتظامیہ کو نہیں بتلارہا، اور اتنی بڑی مسجد میں کوئی عالم جان بوجھ کر نہیں رکھا جارہا تاکہ یہاں کے لوگوں کو اصل بات کا پتا نہ چل سکے۔ آپ سے مؤدّبانہ گزارش ہے کہ جنابِ والا نئی مسجد کی شرعی حیثیت واضح فرمادیں، واضح رہے کہ پی آئی اے کی نئی مسجد اس سے بالکل الگ ہے، مذکورہ مسجد لبِ سڑک ہے اور محکمہ شہری ہوابازی سے تعلق رکھتی ہے۔
جواب:۔
جس جگہ کو چھتیس سال سے مسجد کی حیثیت دی گئی ہو، اور اس میں باقاعدہ جمعہ و جماعت ہوتی رہی ہو، اس کو معطل کردینا اس مسجد کی حیثیت کو ختم کرکے کسی اور مقصد کے لئے استعمال کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں، بلکہ وبال کا موجب ہے، آپ نے جو واقعات لکھے ہیں، اگر صحیح ہیں تو سابقہ مسجد کو نئی مسجد میں شامل کردینا چاہئے، جو جگہ ایک بار مسجد بنادی گئی ہو، وہ قیامت تک کے لئے مسجد رہتی ہے اور اس کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔(۱)
- (۱) قال أبو یوسف ھو مسجد أبدًا إلٰی قیام الساعۃ لَا یعود میراثًا ولَا یجوز نقلہ، ونقل مالہ إلٰی مسجد آخر سواء کانوا یصلون فیہ أو لَا، وھو الفتویٰ كذا فی الحاوی القدسی۔ وفی المجتبٰی وأكثر المشائخ علٰی قول أبی یوسف ورجح فی فتح القدیر قول أبی یوسف بأنہ الأوجہ۔ (البحر الرائق ج:۵ ص:۲۷۲، كتاب الوقف، فصل فی أحکام المساجد ،طبع دارالمعرفۃ بیروت، وأیضًا ردالمحتار ج:۴ ص:۳۵۸، كتاب الوقف، طبع ایچ ایم سعید)۔

