بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

فیکٹری کی مسجد کی شرعی حیثیت

سوال:۔

میں جس فیکٹری میں ملازم ہوں، اس کی مسجد تقریباً ۱۹۷۲ء سے بنی ہوئی ہے، اور باقاعدہ پانچ وقت کی نماز اور جمعہ کی جماعت پڑھائی جاتی ہے۔ اِنتظامیہ نے ایک اِمام صاحب بھی نماز کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ فیکٹری میں تعمیرات کا کام ہو رہا ہے، جس کی زَد میں مسجد بھی آرہی ہے، فیکٹری اِنتظامیہ کا اِرادہ ہے کہ موجودہ مسجد کی جگہ بھی ایک شعبہ بنادیا جائے اور مسجد کو دُوسری منزل پر لے جایا جائے، آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ مل اِنتظامیہ مسجد شہید کرکے اس کی جگہ کوئی شعبہ بناسکتی ہے؟ کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ مسجد کی جگہ تاقیامت مسجد ہی رہتی ہے، یہ جگہ کسی اور مقصد کے لئے اِستعمال نہیں ہوسکتی۔

جواب:۔

اگر فیکٹری کے مالکان نے اس مسجد کو بناتے وقت اس کے باقاعدہ مسجد ہونے کی نیت کی تھی اور مسجد کی حیثیت سے لوگوں کو وہاں نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی، تو اس کو تبدیل کرنا جائز نہیں، کیونکہ جس جگہ کو مسجد کے لئے وقف کردیا جائے، وہ تاقیامت مسجد رہتی ہے، اور اس کی حیثیت کو تبدیل کرنے کا کسی کو اِختیار نہیں۔(۱) اور اگر یہ جگہ مسجد کے لئے وقف نہیں کی گئی، محض نماز پڑھنے کے لئے جگہ مخصوص کردی گئی، جیسا کہ گھروں میں نماز کے لئے ایک جگہ مخصوص کرلی جاتی ہے، تو یہ شرعاً مسجد ہی نہیں اور اس پر مسجد کے اَحکام لاگو نہیں ہوں گے، چنانچہ وہاں اِعتکاف کرنا صحیح نہیں، اور جنبی کا (جس کو غسل کی حاجت ہو) وہاں آنا جائز ہے،(۲) اور وہاں نماز پڑھنے کا ثواب مسجد میں نماز پڑھنے کا نہیں ہوگا۔

اب رہی یہ بحث کہ فیکٹری کے مالکان نے اس کو مسجد کے لئے وقف کیا تھا یا نہیں؟ اس کا فیصلہ چند باتوں کی تنقیح سے ہوسکتا ہے۔ اوّل: یہ کہ جب فیکٹری کا نقشہ منظور کرایا گیا تو آیا نقشے میں یہاں ’’مسجد‘‘ ظاہر کی گئی تھی یا نہیں؟ اگر نقشے میں یہاں ’’مسجد‘‘ کا نشان ظاہر کیا گیا تھا تو یہ اس کی علامت ہے کہ مالکان نے یہاں مسجد بنانے کی نیت کی تھی۔

دوم: یہ کہ جب یہاں مسجد بنائی گئی، کیا اِنتظامیہ کی جانب سے یہ اِعلان و اِظہار کیا گیا تھا کہ یہ شرعی مسجد نہیں بلکہ محض نماز پڑھنے کے لئے ایک جگہ تجویز کی گئی ہے، اور یہ کہ دُوسرے وقت میں اس کے بجائے دُوسری جگہ بھی تجویز کی جاسکتی ہے۔ اگر ایسا کوئی اِعلان واِظہار نہیں کیا گیا، بلکہ اس کو باقاعدہ مسجد کی شکل میں بنایا گیا، وہاں اِمام وخطیب کو مقرّر کیا گیا، وہاں باقاعدگی سے پچّیس سال تک جمعہ اور جماعت کا اِہتمام ہوتا رہا، تو یہ اسی کی دلیل ہے کہ مالکان نے اس کو مسجد کی نیت سے بنایا تھا اور اَب ان کو مسجد کے تبدیل کرنے اور اس جگہ کو کسی دُوسرے مصرف میں لانے کا کوئی حق نہیں۔

سوم: یہ کہ ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں وہاں اِعتکاف ہوتا تھا یا نہیں؟ اگر وہاں اِعتکاف ہوتا رہا یا اتنے عرصے میں کسی سال بھی اِعتکاف ہوا، اور مالکان نے یہاں اِعتکاف کرنے سے منع نہیں کیا، تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ مسجد شرعی ہے، کیونکہ یہ تو ہوسکتا ہے کہ اہلِ محلہ کی غفلت کی وجہ سے کسی مسجد میں اِعتکاف نہ ہو، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ غیرمسجد میں اِعتکاف کیا جائے۔

خلاصہ یہ کہ مسجد میں اِعتکاف ہونا، اس کے شرعی مسجد ہونے کی دلیل ہے، مگر کسی مسجد میں اِعتکاف کا اِہتمام نہ کیا جانا اس کے مسجد نہ ہونے کی دلیل نہیں، اِلَّا یہ کہ مالکان کی طرف اِعلان واِظہار کیا جائے کہ چونکہ یہ شرعی مسجد نہیں، لہٰذا یہاں اِعتکاف نہ کیا جائے۔

ان دلائل کی روشنی میں بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس مسجد کو شرعی مسجد کی حیثیت سے بنایا گیا تھا، لہٰذا اب اِنتظامیہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس مسجد کی حیثیت کو تبدیل کرکے اسے کسی اور مصرف میں اِستعمال کرے۔(۳)

  1. (۱) ویزول ملكہ عن المسجد والمصلی بالفعل وبقولہ جعلتہ مسجدًا عند الثانی وشرط محمد والْإمام الصلاۃ فیہ ۔۔۔إلخ۔ وفی ردالمحتار: قولہ بالفعل أی بالصلاۃ فیہ ففی شرح الملتقی إنہ یصیر مسجدًا بلا خلاف ۔۔۔ حتّٰی إنہ إذا بنٰی مسجدًا وأذن للناس بالصلاۃ فیہ جماعۃ فإنہ یصیر مسجدًا۔ (ردالمحتار ج:۴ ص:۳۵۶، كتاب الوقف)۔
  2. (۲) ولو اتخذ فی بیتہ موضعًا للصلٰوۃ فلیس لہ حكم المسجد أصلًا۔ (حلبی كبیر ص:۶۱۴ طبع سھیل اكیڈمی)۔
  3. (۳) فی الدر المختار: ولو خرب ما حولہ واستغنٰی عنہ یبقی مسجدًا عند الْإمام، والثانی أبدًا إلٰی قیام الساعۃ وبہ یفتی، وفی الشامیۃ فلا یعود میراثًا ولَا یجوز نقلہ ونقل مالہ إلٰی مسجد آخر۔ (شامی ج:۴ ص:۳۵۸، كتاب الوقف)