مسجدکےمسائل
مسافروں کی ضرورت کے پیشِ نظر دُوسری مسجد بنانا
سوال:۔
ایک گاؤں جو کہ چالیس گھروں پر مشتمل ہے، جس میں ایک مسجد ایک صدی سے قائم ہے، اور مستقل نمازی زیادہ سے زیادہ پانچ ہیں۔ اب گاؤں والوں کا خیال ہے کہ پُرانی مسجد چونکہ گاؤں کے بیچ میں ہے، جہاں مسافروں کو نماز پڑھنے میں تکلیف ہوتی ہے، اس لئے گاؤں کے کنارے پر دُوسری مسجد تعمیر کی جائے۔ دُوسری مسجد کی تعمیر کے بعد پُرانی مسجد ویران ہوجائے گی۔ کیا اس صورت میں نئی مسجد تعمیر کرنا جائز ہے؟
اچھا اگر مسجد تعمیر بھی ہوجائے تو اس صورت میں نمازِ جمعہ اور تراویخ کس مسجد میں ادا کی جائیں؟
جواب:۔
اگر نئی مسجد کی ضرورت ہو، تو اس کا بنانا صحیح ہے،(۱) مگر پُرانی مسجد کو معطل کردینا وبال کا موجب ہے۔(۲) تراویح کی نماز دونوں مسجدوں میں ہوسکتی ہے، اور جمعہ کسی میں نہیں ہوسکتا، کیونکہ چھوٹی بستی میں جمعہ نہیں ہوتا۔(۳)
- (۱) فی الدر المختار: أراد أھل المحلۃ نقض المسجد وبنائہ أحكم من الأوّل أن البانی من أھلہ المحلۃ لھم ذالك وإلّا لَا ۔۔۔إلخ۔ وفی ردالمحتار: وأما أھلھا فلھم أن یھدموہ ویجددوا بنائہ یفرشوا الحصیر ویعلقوا القنادیل لٰـكن من مالھم لَا من مال المسجد۔ (ردالمحتار ج:۴ ص:۳۵۷، كتاب الوقف، مطلب فی ما لو خرب المسجد)۔
- (۲) ولو خرب ما حولہ واستغنی منہ یبقی مسجدًا عند الْإمام والثانی أبدًا إلٰی قیام الساعۃ وبہ یفتی۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۴ ص:۳۵۸)۔ أیضًا: قال اللہ تعالٰی: ﵟ إِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ ﵞ، الآیۃ، العمارۃ تتناول البناء ۔۔۔ وتتناول ما استرم منھا وكنسھا وتنظیفھا وتنویرھا بالمصابیح وتعظیمھا واعتیادھا للعبادۃ والذكر ۔۔۔إلخ۔ (حلبی كبیر ص: ۶۱۰، فصل فی أحکام المسجد، طبع سھیل اكیڈمی)۔
- (۳) لَا تصح الجمعۃ إلّا فی مصر جامع أو فی مصلی المصر ولَا تجوز فی القریٰ لقولہ علیہ السالم: لَا جمعۃ ولَا تشریق ولَا فطر ولَا أضحٰی إلّا فی مصر جامع۔ (ھدایۃ ج:۱ ص: ۱۶۸، باب صلاۃ الجمعۃ)۔

