بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

نئی مسجد کی وجہ سے پُرانی مسجد کو شہید کرنا

سوال:۔

گارڈن ویسٹ میں جیلانی مسجد تیس سال سے قائم ہے، نمازِ جمعہ اور عیدین بھی ادا کی جاتی ہیں، حکومت نے آبادی ختم کرکے روڈ کشادہ کی، لیکن مسجد کو اپنے حال پر باقی رکھا۔ اب مسجد سے متصل فلیٹ اور دُکانیں تعمیر ہو رہی ہیں، اور ایک طرف نئی مسجد بھی تعمیر ہو رہی ہے، کچھ لوگ اس مسجد کو ختم کرکے نئی مسجد میں شفٹ ہونا چاہتے ہیں، کیا پُرانی مسجد کو شہید کرکے نئی مسجد میں شفٹ ہوا جاسکتا ہے؟ اس مسجد کو ختم کردیا جائے؟

جواب:۔

جب ایک مرتبہ کسی جگہ مسجد بن جائے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہوتی ہے، اب وہ جگہ وقف ہے، اس پر مالکانہ تصرف کا حق باقی نہیں رہتا۔ اس لئے اس جگہ پر مکان بنانا، دُکان بنانا یا کسی اور تصرف میں لانا جائز نہیں۔ اسی طرح اس مسجد کو شہید کرنا یا اس کی مسجد کی حیثیت ختم کرنا بھی جائز نہیں۔(۱)

  1. (۱) ولو خرب ما حولہ واستغنی عنہ یبقٰی مسجدًا عند الْإمام، والثانی أبدًا إلٰی قیام الساعۃ وبہ یفتی حاوی القدسی۔ (قولہ عند الْإمام والثانی) فلا یعود میراثًا ولَا یجوز نقلہ ونقل مالہ إلٰی مسجد آخر سواء کانوا یصلون فیہ أو لَا وھو الفتویٰ حاوی القدسی وأكثر المشائخ علیہ، مجتبٰی۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۳۵۸، كتاب الوقف، مطلب فی ما لو خرب المسجد أو غیرہ، والبحر ج:۵ ص:۲۷۲، كتاب الوقف، فصل فی أحکام المساجد)۔