بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

مسجد کو دُوسری جگہ منتقل کرنا دُرست نہیں

سوال:۔

ایک مسجد تھی، محلہ والوں نے وہاں کئی عرصہ نمازیں پڑھیں، پھر اس کو شہید کراکے آگے دُوسری جگہ مسجد بنالی۔ اب وہاں جہاں پہلے مسجد تھی، اسکول بنا ہوا ہے۔ تو ایسا کرنا جائز ہے؟ بعض مرتبہ گورنمنٹ سڑک بناتی ہے، کچی آبادیوں میں تو بیچ میں مسجد آجاتی ہے، تو کیا مسجد کو دُوسری جگہ دے کر وہاں سے سڑک گزارنا جائز ہے؟

جواب:۔

مسجد کا ایک جگہ سے دُوسری جگہ منتقل کرنا صحیح نہیں، جو ایک بار شرعی مسجد بن گئی، وہ قیامت تک کے لئے مسجد ہے، اس کو کسی دُوسرے مصرف میں لانا گناہ ہے۔(۱)

  1. (۱) ولو خرب ما حولہ واستغنٰی عنہ یبقی مسجدًا عند الْإمام، والثانی أبدًا إلٰی قیام الساعۃ وبہ یفتی حاوی القدسی۔ وفی الشامیۃ قولہ عند الْإمام والثانی فلا یعود میراثًا ولَا یجوز نقلہ ونقل مالہ إلٰی مسجدًا آخر، سواء کانوا یصلون فیہ أو لَا وھو الفتویٰ حاوی القدسی وأكثر المشائخ علیہ مجتبٰی۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۳۵۸، كتاب الوقف، مطلب فی ما لو خرب المسجد أو غیرہ، البحر الرائق ج:۵ ص:۲۷۲، كتاب الوقف، فصل فی أحکام المساجد)۔