مسجدکےمسائل
ایک مسجد کو آباد کرنے کے لئے دُوسری مسجد کو منہدم کرنا جائز نہیں
سوال:۔
ایک قدیم مسجد جو چاروں طرف سے درختوں، باغات سے ڈھکی ہوئی ہے، علاقہ انتہائی گرم، گرمی ناقابلِ برداشت حتیٰ کہ مقتدیوں نے کہا کہ ہم گرمی میں نماز پڑھنے نہیں آئیں گے، مسجد کسی طرف سے بڑھائی بھی نہیں جاسکتی، تو کیا سو قدم کے فاصلے پر مسجدِ ثانی کا بنانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو ظاہر ہے دونوں مسجدوں میں جماعت نہیں ہوسکتی، تو پھر قدیم مسجد کو منہدم کردیں یا بند کریں؟
جواب:۔
ایک مسجد کا دُوسری مسجد کے لئے انہدام قصداً جائز نہیں ہے، البتہ دُوسری مسجد مذکورہ بالا ضرورت کے تحت بناسکتے ہیں، لیکن اس کو آباد کرنے کے لئے پہلی مسجد کو منہدم نہیں کیا جاسکتا۔(۱)
- (۱) ولو خرب ما حولہ واستغنٰی عنہ یبقی مسجدًا عند الْإمام، والثانی أبدًا إلٰی قیام الساعۃ وبہ یفتی حاوی القدسی۔ وفی الشامیۃ قولہ عند الْإمام والثانی فلا یعود میراثًا ولَا یجوز نقلہ ونقل مالہ إلٰی مسجدًا آخر، سواء کانوا یصلون فیہ أو لَا وھو الفتویٰ حاوی القدسی وأكثر المشائخ علیہ مجتبٰی۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۳۵۸، كتاب الوقف، مطلب فی ما لو خرب المسجد أو غیرہ، البحر الرائق ج:۵ ص:۲۷۲، كتاب الوقف، فصل فی أحکام المساجد)۔

