بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

مسجد کو شہید کرنا

سوال:۔

تحصیل ماتلی سے ۱۰کلومیٹر دُور گورنمنٹ نے بارن اسٹاپ پر ایک مرادواہ کے نام سے نہر نکالی ہے، اس نہر کے ایک سائیڈ پر ایک چھوٹی مسجد آتی ہے، ٹھیکیدار نے کھدائی کرادی ہے، جس سے مسجد مراد واہ کے ایک کنارے سے چار پانچ فٹ (واہ کے) اندر آگئی ہے، انجینئر اور ٹھیکیدار کہتے ہیں کہ اس مسجد شریف کو گراکر اور اس کی مٹی کو کسی بہتی ہوئی نہر میں ڈال دیں، لیکن وہاں جو ٹریکٹر والے کھدائی کا کام کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم شرعی مسئلہ پوچھ کر پھر مسجد کی طرف ہاتھ بڑھائیں گے، آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ جیسے انجینئر اور ٹھیکیدار کہتے ہیں وہ صحیح ہے؟ یا اس (کچی) مسجد کو وہاں کھڑا کرنا چاہئے تو کیسے؟

جواب:۔

مسجد خواہ کچی ہو یا پکی، اس کو یا اس کے کسی حصے کو ہٹانا اور اس جگہ کو کسی اور کام میں استعمال کرنا جائز نہیں۔(۱) ٹھیکیدار اور انجینئر صاحبان کو چاہئے کہ نہر کو خم دے کر مسجد کے ورے ورے سے گزاریں، ورنہ تمام لوگ جو اس کام میں شریک ہیں، خانۂ خدا کی ویرانی کی وجہ سے گناہگار ہوں گے اور جس طرح انہوں نے خدا کا گھر ویران کیا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں کو اُجاڑ دیں گے۔(۲)

  1. (۱) ولو خرب ما حولہ واستغنٰی عنہ یبقی مسجدًا عند الْإمام، والثانی أبدًا إلٰی قیام الساعۃ، وبہ یفتی۔ درمختار۔ (قولہ عند الْإمام والثانی) فلا یعود میراثًا، ولَا یجوز نقلہ ونقل مالہ إلٰی مسجد آخر، سواء کانوا یصلون فیہ أو لَا، وھو الفتویٰ حاوی القدسی وأكثر المشائخ علیہ۔ (فتاویٰ شامی، كتاب الوقف، مطلب فیما لو خرب المسجد أو غیرہ ج:۴ ص:۳۵۸، طبع ایچ ایم سعید، البحر الرائق ج:۵ ص:۲۷۲، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔
  2. (۲) ﵟ وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ أَن يُذۡكَرَ فِيهَا ٱسۡمُهُۥ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَآۚ أُوْلَٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمۡ أَن يَدۡخُلُوهَآ إِلَّا خَآئِفِينَۚ لَهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا خِزۡيٞ وَلَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٞ ١١٤ ﵞ البقرة ١١٤۔