مسجدکےمسائل
سٹے کی رقم مسجد میں لگانا
سوال:۔
مسئلہ کچھ یوں ہے کہ ایک شخص عرصہ بیس سال سے سٹہ جیسے منحوس و غیراسلامی کاروبار کر رہے ہیں، جنہیں علاقہ اور علاقے سے باہر کے تمام ہی لوگ جانتے ہیں، ان صاحب نے مسجد کی تعمیر و مرمت کے لئے بیس ہزار روپیہ بطور عطیہ دیا ہے، جسے مسجد کمیٹی نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ عطیہ دینے والے شخص کا ذریعۂ معاش صرف اور صرف سٹے کے کاروبار سے حاصل ہونی والی آمدنی ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں، پھر بھی مسجد انتظامیہ یہ ناجائز پیسہ لے کر مسجد کی تعمیر و مرمت میں لگا رہی ہے۔ تو عرض یہ ہے کہ ایسے پیسے سے تعمیر کی جانے والی مسجد میں نماز کی ادائیگی کی کیا شرعی حیثیت ہوگی؟ مفصل جواب مرحمت فرماویں، اللہ تعالیٰ آپ کا ہمیشہ حامی و ناصر رہے، آمین!
جواب:۔
یہ شرعاً مسجد ہے اور نماز بھی اس میں جائز ہے، مگر جان بوجھ کر غلط رقم مسجد کی تعمیر میں خرچ کرنے والے لوگ گنہگار ہیں، ان کو توبہ کرنی چاہئے۔(۱)
- (۱) قال تاج الشریعۃ: أما لو أنفق فی ذالك مالًا خبیثًا أو مالًا سببہ الخبیث والطیب فیكرہ لأن اللہ تعالٰی لَا یقبل إلّا الطیب فیكرہ تلویث بیتہ بما لَا یقبلہ۔ (ردالمحتار ج:۱ ص:۶۵۸، مطلب كلمۃ لَا بأس)۔

