مسجدکےمسائل
ورثاء کی رضامندی کے بغیر مکان مسجد میں شامل کرنا
سوال:۔
میرے والد صاحب نے اپنی حیات میں مکان خریدا، جائیدادِ متروکہ حکومت سے فارم والد صاحب کے نام پر کیا، تمام قیمت میری تنخواہ سے ادا کی، والد صاحب فوت ہوجاتے ہیں۔ بلدیہ جائیداد خطرناک ہونے کی وجہ سے گرانے کا حکم دیتی ہے، والد صاحب کی وفات کے چار سال بعد بلدیہ سے نقشہ پاس کرواکر دوبارہ تعمیر کرتے ہیں، جس میں میرا اور میرے چھوٹے بھائی کا روپیہ خرچ ہوتا ہے، والد صاحب وفات کے وقت دو کمسن لڑکے اور دو لڑکیاں چھوڑ جاتے ہیں۔ میں اور میرے بھائی نے پروَرِش کی اور شادی وغیرہ کے اِخراجات بھی برداشت کرتے ہیں۔ اب وہ سب سے چھوٹا بھائی اور دو بہنیں مطالبہ کرتی ہیں کہ گھر فروخت کرکے ہمارا حصہ دو۔ برابر میں مسجد بھی زیرِ تعمیر ہے، مسجد والے چاہتے ہیں کہ گھر مسجد میں آجائے، مسجد والے میرے بھائی اور بہن کا زبردستی ساتھ دے رہے ہیں، رقم بھی دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ رِشوت دے کر بھی مکان مسجد میں شامل کریں گے، جیسا کہ مسجد پر ناجائز زبردستی قبضہ کیا، جبکہ مکان میں میری والدہ، ایک بھائی اور میرے بیوی بچے رہ رہے ہیں، میں تو ۱۹۴۷ء سے اسی مکان میں آباد ہوں۔
جواب:۔
یہ مکان آپ کے والد ماجد کے نام تھا، اس لئے وہ جگہ تو تمام وارثوں کی ہے۔ اس پر جو نیا مکان بنایا گیا ہے، وہ صرف ان کا ہے جنہوں نے یہ مکان بنایا، اس لئے جگہ کی جو قیمت بنتی ہو اس میں سے وارثوں کو حصہ دے دیا جائے۔ مسجد کو اگر آپ لوگ خوشی کے ساتھ یہ مکان دے دیں تو آپ کے لئے صدقۂ جاریہ ہوگا، زبردستی لے کر مسجد میں شامل کرنا صحیح نہیں۔

