بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

پرائی زمین پر مسجد بنانا

سوال:۔

میں ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہوں، میری ریٹائرمنٹ پر جو رقم مجھے دی گئی تھی، میں نے اس سے ایک پلاٹ خرید لیا تھا۔ میری تین بچیاں ہیں، جس میں سے ایک بچی کی شادی کا مسئلہ درپیش ہے۔ میرے پلاٹ پر چند لوگوں نے ناجائز قبضہ کرلیا ہے، میں ان کو وہاں سے ہٹانا چاہتا ہوں، کیونکہ ایک کمپنی کو میں نے پلاٹ بیچنے کا اِرادہ کیا ہے۔ پولیس کے کچھ افسران سابقہ سرکاری ملازمت کی وجہ سے میرے واقف کار ہیں، اس لئے ان ناجائز قابضین سے جگہ خالی کرانا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

مسئلہ دراصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے قریب ہی میں مسجد ہونے کے باوجود میرے پلاٹ پر ایک مسجد تعمیر کرلی ہے، اگر میں ان کو وہاں سے ہٹانا چاہتا ہوں تو وہ اس مسئلے کو مذہبی رنگ دے رہے ہیں، اور جگہ خالی کرنے سے اِنکاری ہیں۔

۱:۔ کیا کسی شخص کی ذاتی ملکیت پر ناجائز مسجد تعمیر کرنا جائز ہے؟

۲:۔ اگر میں ان لوگوں کو وہاں سے بزور ہٹادُوں تو اس مسجد کا کیا کیا جائے؟ جس کمپنی سے میرا معاہدہ ہوا ہے وہ وہاں پر ایک رہائشی منصوبہ بنانا چاہتی ہے۔ مسجد ان لوگوں نے اس قدر غلط طریقے سے بنائی ہے کہ اس کو منصوبے سے کسی طرح بھی ایڈجسٹ نہیں کیا جاسکتا۔

محترم! میری کل پونجی وہی ایک پلاٹ ہے، بچی کی شادی قریب آتی جارہی ہے، اور یہ مسئلہ اُلجھتا جارہا ہے، برائے مہربانی آپ سے نہایت عاجزانہ اِلتماس ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے کا حل فوری عنایت فرمائیں۔

جواب:۔

جو واقعات آپ نے لکھے ہیں، اگر وہ صحیح ہیں تو وہ مسجد جو پرائی زمین پر بنائی جائے، مسجد ہی نہیں، اس لئے آپ بلاتکلف ان لوگوں کو ہٹاسکتے ہیں، اور اس مسجد کو ہٹواسکتے ہیں۔(۱) ان لوگوں کو اس مسجد کے بنانے سے ثواب نہیں ملا، بلکہ پرائے مال پر قبضہ کرنے کی وجہ سے یہ لوگ مبتلائے عذاب ہوں گے، جب تک کہ یہ لوگ اپنے اس گناہ سے توبہ نہیں کرلیتے۔(۲)

  1. (۱) واما شرائطہ ۔۔۔ فمنھا الملك وقت الوقف۔ (عالمگیری ج:۲ ص:۳۵۳)۔ أیضًا: والأرض إذا کانت ملکا لغیرہ فللمالك استردادھا وأمرہ بنقض البناء۔ (ردالمحتار ج:۴ ص:۳۹۰، كتاب الوقف، مناظرۃ ابن الشحنہ مع شیخہٖ)۔
  2. (۲) عن سعید بن زید قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أخذ شبرًا من الأرض ظلمًا فإنہ یطوّقہ یوم القیامۃ من سبع أرضین۔ متفق علیہ۔ (مشكوٰۃ ص:۲۵۴، باب الغصب والعاریۃ، طبع قدیمی کتب خانہ)۔