مسجدکےمسائل
شرعی مسجد کی تفصیل
سوال:۔
آپ نے ۱۲؍فروری کے روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں مسجد کی منتقلی سے متعلق اِرشاد فرمایا ہے کہ: ’’مسجد کا ایک جگہ سے دُوسری جگہ منتقل کرنا صحیح نہیں، جو ایک بار شرعی مسجد بن گئی، وہ قیامت تک کے لئے مسجد ہے۔‘‘ مگر آپ نے لفظ ’’شرعی‘‘ کی وضاحت نہیں فرمائی۔ کراچی میں بہت سی مساجد اور خصوصاً مضافاتی بستیوں میں اہلِ سنت کی بہت سی مساجد سرکاری ونیم سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے بنائی گئی ہیں۔ میں تو ایک ایسی مسجد بھی دیکھ چکا ہوں جو ایک سرکاری ملازم کے ذاتی پلاٹ پر بلااِجازت بنائی گئی۔ وہ غریب ملازمت کے سلسلے میں تبدیل ہوکر اِسلام آباد چلا گیا تھا، اور جب ریٹائر ہوکر ایک طویل عرصے کے بعد واپس آیا تو اپنے پلاٹ پر مسجد کھڑی دیکھ کر سرپیٹ لیا۔ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے خیال میں کیا یہ بھی شرعی مسجد ہے؟ اگر نہیں تو پھر اس میں نماز کیسے ہوتی ہے؟
ایک مضافاتی بستی میں چند برس ہوئے ایسی ہی ناجائز مسجد کو ہٹایا گیا۔ متعلقہ لوگوں نے ایک عالمِ دِین سے رُجوع کیا، تو فرمایا: مسجد ناجائز بننا تو نہیں چاہئے، لیکن اگر بن گئی ہے تو پھر رہنے دیا جائے۔ کیا اس جواب سے ان عالمِ دِین میں حق بات کہنے کی جرأت کا فقدان نہیں ظاہر ہوتا کہ انہوں نے مصلحت آمیز جواب دیا۔
کسی زمین پر خواہ کسی کی ذاتی ملکیت ہو، یا سرکاری ونیم سرکاری اِدارے کی ملکیت، حق بات تو یہ ہے کہ مسجد بلااِجازت بننا نہیں چاہئے۔ تاریخ میں تو یہ پڑھا ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدِ نبوی بھی زمین کا معاوضہ دے کر بنائی تھی، حالانکہ وہ زمین دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی، اور لوگوں نے بلامعاوضہ زمین مسجد کے لئے پیش کی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِصرار کرکے مسجد کا معاوضہ ادا کیا۔ اب آپ یہ نہ فرمائیے گا کہ وہ زمین چونکہ یتیم بچوں کی ملکیت تھی، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاوضے کی ادائیگی پر اِصرار کیا۔ کیا آپ کسی مسجد کی مثال دے سکتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء نے کسی کی زمین پر مالک کی اِجازت ومنشا کے بغیر قائم کی ہو؟
جواب:۔
میں نے ’’شرعی مسجد‘‘ کی قید اس لئے لگائی تھی تاکہ کسی شخصی ملکیت پر بلااِجازت بنائی گئی ’’نام نہاد مسجد‘‘ کو اس سے مستثنیٰ کیا جاسکے۔ اب اس کے حکمِ شرعی کی تفصیل لکھتا ہوں۔
۱:۔ جو جگہیں گورنمنٹ نے رفاہِ عامہ کے لئے چھوڑی ہوئی ہیں، یعنی وہ اہلِ محلہ کی ضروریات کے لئے ہیں، ایسی جگہوں میں جو مساجد بنائی جائیں، ان کا حکم یہ ہے کہ رسمی طور پر گورنمنٹ سے ان کی اجازت لینی چاہئے، اور اگر وہاں واقعی مسجد کی ضرورت ہو تو گورنمنٹ کے متعلقہ افسران کو اس کی فوری منظوری دینی چاہئے۔ اگر یہ افسران مسجد کی منظوری نہ دیں اور اہلِ محلہ وہاں مسجد بناکر نماز شروع کردیں تو یہ ’’شرعی مسجد‘‘ ہوگی، کیونکہ یہ جگہ اہلِ محلہ ہی کی ضرورتوں کے لئے ہے، اور مسجد کا ہونا اہلِ محلہ کی اہم ترین ضرورت ہے۔
۲:۔ بعض جگہیں ایسی ہیں جو گورنمنٹ نے اہلِ محلہ کی ضرورتوں کے لئے نہیں، بلکہ گورنمنٹ کی ضرورتوں کے لئے رکھی ہیں، اور وہ جگہ ایسی ہے کہ گورنمنٹ اس کا کوئی متبادل بھی تلاش نہیں کرسکتی، ایسی جگہ پر بلااِجازت مسجد بنانا صحیح نہیں، بلکہ گورنمنٹ سے پیشگی اِجازت لینا ضروری ہے۔
۳:۔ بعض جگہیں خاص محکموں کی ملکیت ہوتی ہیں، ایسی جگہوں پر مسجد بنانے کے لئے اس محکمے سے اِجازت لینا ضروری ہے۔
۴:۔ بعض جگہیں کسی شخص کی ذاتی ملکیت ہوتی ہیں (خواہ وہ فرد مسلم ہو یا غیرمسلم) ایسی جگہ مسجد بنانا صرف اس صورت میں صحیح ہے کہ وہ شخص اس جگہ کو مسجد کے لئے وقف کردے، یا مسجد کے لئے اس سے خرید لی جائے، اگر مالک کی اِجازت کے بغیر وہاں مسجد بنائی گئی (جیسا کہ آپ نے سوال میں لکھا ہے) تو وہ شرعاً مسجد نہیں، اور اس میں نماز پڑھنا بھی جائز نہیں، زمین کے مالک کو حق حاصل ہے کہ اس عمارت کو، جو ’’مسجد‘‘ کے نام سے کھڑی کی گئی ہے، منہدم کرڈالے۔ الغرض ’’مسجد‘‘ کے مقدس نام سے دُوسروں کی زمین غصب کرلینا قطعاً جائز نہیں۔(۱)
- (۱) واما شرائطہ ۔۔۔ ومنھا الملك وقت الوقف، حتّٰی لو غصب أرضًا فوقفھا ثم اشتراھا من مالكھا ودفع الثمن إلیہ أو صالح علٰی مال دفعہ إلیہ لَاتکون وقفًا۔ (عالمگیری ج:۲ ص:۳۵۳، كتاب الوقف، الباب الأوّل)، أیضًا: كل یتصرف فی ملكہ كیف شاء، لأن كون الشیء ملكًا لرجل یقتضی أن یكون مطلقًا فی التصرف فیہ۔ (شرح المجلۃ لِأتاسی ج:۴ ص:۱۳۲، المادّۃ:۱۱۹۲)۔

