بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

غصب شدہ جگہ پر مسجد کی تعمیر

سوال:۔

کسی مسجد کی انتظامیہ گورنمنٹ کی اجازت یا بلااجازت گورنمنٹ کے کسی دفتر یا ادارہ پر قبضہ کرکے اسے مسجد میں شامل کرلے تو کیا وہ جگہ غصب شدہ تصوّر ہوگی؟ اور وہاں نماز ہوجائے گی یا نہیں؟

جواب:۔

غصب شدہ جگہ پر مسجد تو نہیں بن سکتی ہے، جب تک مالک سے اس کی اجازت نہ لے لی جائے، گورنمنٹ کے کسی دفتر یا ادارہ پر قبضہ کرکے اسے مسجد میں شامل کرنا بھی غصب ہے، البتہ جو جگہ علاقے کے لوگوں کی ضرورتوں کے لئے خالی پڑی ہو، وہاں مسجد بنانا جائز ہے۔ اور گورنمنٹ کا فرض ہے کہ لوگوں کی ضرورت کے مدِنظر وہاں مسجد بنوائے۔(۱)

  1. (۱) (وأرض مغصوبۃ أو للغیر) ۔۔۔ وتكرہ فی أرض الغیر ۔۔۔ إلّا إذا کانت بینھما صداقۃ أو رأی صاحبھا لَا یكرھہ فلا بأس۔ (شامی ج:۱ ص:۳۸۱، مطلب فی الصلاۃ فی الأرض المغصوبۃ ۔۔۔إلخ)۔