بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

تعمیرِ مسجد عبادت ہے، کافر اس کا اہل نہیں:

نیز مسجد کی تعمیر ایک اعلیٰ ترین اسلامی عبادت ہے، اور کافر اس کا اہل نہیں، چونکہ کافر میں تعمیرِ مسجد کی اہلیت ہی نہیں، اس لئے اس کی تعمیر کردہ عمارت مسجد نہیں ہوسکتی، قرآنِ کریم میں صاف صاف ارشاد ہے:

ﵟ مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِينَ أَن يَعۡمُرُواْ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ شَٰهِدِينَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِم بِٱلۡكُفۡرِۚ أُوْلَٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ وَفِي ٱلنَّارِ هُمۡ خَٰلِدُونَ ﵞ(التوبة ١٧)

ترجمہ:۔’’مشرکین کو حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو تعمیر کریں درآنحالیکہ وہ اپنی ذات پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں، ان لوگوں کے عمل اکارت ہوچکے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

اس آیت میں چند چیزیں توجہ طلب ہیں، اوّل یہ کہ یہاں مشرکین کو تعمیرِ مسجد کے حق سے محروم قرار دیا گیا ہے، کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ کافر ہیں، ’’شَٰهِدِينَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِم بِٱلۡكُفۡرِۚ‘‘ اور کوئی کافر تعمیرِ مسجد کا اہل نہیں، گویا قرآن یہ بتاتا ہے کہ تعمیرِ مسجد کی اہلیت اور کفر کے درمیان منافات ہے، یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتیں، پس جب وہ اپنے عقائدِ کفر کا اقرار کرتے ہیں تو گویا وہ خود اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ تعمیرِ مسجد کے اہل نہیں، نہ انہیں اس کا حق حاصل ہے۔

اِمام ابوبکر احمد بن علی الجصاص الرازی الحنفی (متوفی ۳۷۰ھ) لکھتے ہیں:

’’عِمَارَةُ الْمَسْجِدِ تَكُوْنُ بِمَعْنَيَيْنِ، أَحَدُهُمَا زِيَارَتُهُ وَالْكَوْنُ فِيْهِ، وَالْآخَرُ بِبِنَائِهِ وَتَجْدِيْدِ مَا اسْتُرِمَ مِنْهُ، فَاقْتَضَتِ الْآيَةُ مَنْعَ الْكُفَّارِ مِنْ دُخُوْلِ الْمَسْجِدِ وَمِنْ بِنَائِهَا وَتَوَلِّيْ مَصَالِحِهَا وَالْقِيَامِ بِهَا لِانْتِظَامِ اللَّفْظِ لِأَمْرَيْنِ۔‘‘ (اَحکام القرآن ج:۳ ص:۸۷، سہیل اکیڈمی لاہور)

ترجمہ:۔’’یعنی مسجد کی آبادی کی دو صورتیں ہیں، ایک مسجد کی زیارت کرنا، اس میں رہنا اور بیٹھنا، دُوسرے اس کو تعمیر کرنا اور شکست و ریخت کی اصلاح کرنا، پس یہ آیت اس امر کی متقاضی ہے کہ مسجد میں نہ کوئی کافر داخل ہوسکتا ہے، نہ اس کا بانی و متولّی اور خادم بن سکتا ہے، کیونکہ آیت کے الفاظ تعمیرِ ظاہری و باطنی دونوں کو شامل ہیں۔‘‘

دوم:۔ اپنی ذات پر کفر کی گواہی دینے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنا کافر ہونا تسلیم کرتے ہیں اور خود اپنے آپ کو ’’کافر‘‘ کہتے ہیں، کیونکہ دُنیا میں کوئی کافر بھی اپنے آپ کو ’’کافر‘‘ کہنے کے لئے تیار نہیں، بلکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے عقائد کا برملا اعتراف کرتے ہیں جنہیں اسلام، عقائدِ کفر قرار دیتا ہے، یعنی ان کا کفریہ عقائد کا اظہار اپنے آپ کو کافر تسلیم کرنے کے قائم مقام ہے۔

سوم:۔ قرآنِ کریم کے اس دعویٰ پر کہ کسی کافر کو اپنے عقائدِ کفریہ پر رہتے ہوئے تعمیرِ مسجد کا حق حاصل نہیں، یہ سوال ہوسکتا تھا کہ کافر تعمیرِ مسجد کی اہلیت سے کیوں محروم ہے؟ اگلے جملے میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے: ’’أوْلَٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ‘‘ کہ ’’ان کے عمل اکارت ہیں‘‘ چونکہ کفر سے انسان کے تمام نیک اعمال اکارت اور ضائع ہوجاتے ہیں، اس لئے کافر نہ صرف تعمیرِ مسجد بلکہ کسی بھی عبادت کا اہل نہیں۔ یہ کفر کی دُنیوی خاصیت تھی، اور آگے اس کی اُخروی خاصیت بیان کی گئی ہے: ’’وَفِي ٱلنَّارِ هُمۡ خَٰلِدُونَ ‘‘ کہ: ’’کافر اپنے کفر کی بنا پر دائمی جہنم کے مستحق ہیں‘‘ اس لئے ان کی اطاعت و عبادت کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ پس یہ آیت اس مسئلے میں نصِ قطعی ہے کہ غیرمسلم کافر تعمیرِ مسجد کے اہل نہیں، اس لئے انہیں تعمیرِ مساجد کا حق حاصل نہیں، اس سلسلے میں حضراتِ مفسرین کی چند تصریحات حسبِ ذیل ہیں:

اِمام ابوجعفر محمد بن جریر الطبری (متوفیٰ ۳۱۰ھ) لکھتے ہیں:

’’يَقُوْلُ: إِنَّ الْمَسَاجِدَ إِنَّمَا تُعْمَرُ لِعِبَادَةِ اللهِ فِيْهَا، لَا لِلْكُفْرِ بِهِ، فَمَنْ كَانَ بِاللهِ كَافِرًا فَلَيْسَ مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يُعَمِّرَ مَسَاجِدَ اللهِ۔‘‘ (تفسیر ابن جریر ج:۱۰ ص:۹۳، مطبوعہ دارالفکر، بیروت)

ترجمہ:۔’’حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مسجدیں تو اس لئے تعمیر کی جاتی ہیں کہ ان میں اللہ کی عبادت کی جائے، کفر کے لئے تو تعمیر نہیں کی جاتی، پس جو شخص کافر ہو، اس کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کی تعمیر کرے۔‘‘

اِمامِ عربیت جار اللہ محمود بن عمر الزمخشری (متوفیٰ ۵۲۸ھ) لکھتے ہیں:

’’وَالْمَعْنَى: مَا اسْتَقَامَ لَهُمْ أَنْ يَجْمَعُوْا بَيْنَ أَمْرَيْنِ مُتَنَافِيَيْنِ، عِمَارَةِ مُتَعَبَّدَاتِ اللهِ مَعَ الْكُفْرِ بِاللهِ وَبِعِبَادَتِهِ، وَمَعْنَى شَهَادَتِهِمْ عَلٰى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ ظُهُوْرُ كُفْرِهِمْ۔‘‘ (تفسیر کشاف ج:۲ ص:۲۵۳)

ترجمہ:۔’’مطلب یہ ہے کہ ان کے لئے کسی طرح دُرست نہیں کہ وہ دو متنافی باتوں کو جمع کریںکہ ایک طرف خدا کی مسجدیں بھی تعمیر کریں اور دُوسری طرف اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کے ساتھ کفر بھی کریں، اور ان کے اپنی ذات پر کفر کی گواہی دینے سے مراد ہے ان کے کفر کا ظاہر ہونا۔‘‘

اِمام فخرالدین رازی (متوفیٰ ۶۰۶ھ) لکھتے ہیں:

’’قَالَ الْوَاحِدِيُّ: دَلَّتْ عَلَى أَنَّ الْكُفَّارَ مَمْنُوعُونَ مِنْ عِمَارَةِ مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِينَ، وَلَوْ أَوْصَى بِهَا لَمْ تُقْبَلْ وَصِيَّتُهُ۔‘‘ (تفسیر کبیر ج:۱۶ ص:۷، مطبوعہ مصر)

ترجمہ:۔’’واحدی فرماتے ہیں: یہ آیت اس مسئلہ کی دلیل ہے کہ کفار کو مسلمانوں کی مسجدوں میں سے کسی مسجد کی تعمیر کی اجازت نہیں، اور اگر کافر اس کی وصیت کرے تو اس کی وصیت قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘

اِمام ابوعبداللہ محمد بن احمد القرطبی (متوفیٰ ۶۷۱ھ) لکھتے ہیں:

’’فَيَجِبُ إِذًا عَلَى الْمُسْلِمِينَ تَوَلِّي أَحْكَامِ الْمَسَاجِدِ وَمَنْعِ الْمُشْرِكِينَ مِنْ دُخُولِهَا۔‘‘ (تفسیر قرطبی ج:۸ ص:۸۹، دار الکاتب العربی، القاہرۃ)

ترجمہ:۔’’مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ انتظام مساجد کے متولّی خود ہوں اور کفار و مشرکین کو ان میں داخل ہونے سے روک دیں۔‘‘

اِمام محی السنۃ ابو محمد حسین بن مسعود الفراء البغوی (متوفیٰ۵۱۶ھ) لکھتے ہیں:

’’أَوْجَبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَنْعَهُمْ مِنْ ذٰلِكَ، لِأَنَّ الْمَسَاجِدَ إِنَّمَا تُعْمَرُ لِعِبَادَةِ اللّٰهِ وَحْدَهُ، فَمَنْ كَانَ كَافِرًا بِاللّٰهِ فَلَيْسَ مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَعْمُرَهَا۔ فَذَهَبَ جَمَاعَةٌ إِلٰى أَنَّ الْمُرَادَ مِنْهُ الْعِمَارَةُ مِنْ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ وَمَرَمَّتِهِ عَنِ الْخَرَابِ، فَيُمْنَعُ الْكَافِرُ مِنْهُ حَتّٰى لَوْ أَوْصَى بِهِ لَا يُمْتَثَلُ، وَحَمَلَ بَعْضُهُمُ الْعِمَارَةَ هٰهُنَا عَلٰى دُخُولِ الْمَسْجِدِ وَالْقُعُودِ فِيهِ۔‘‘ (تفسیر معالم التنزیل للبغوی ج:۳ ص:۵۵، برحاشیہ خازن، مطبوعہ علمیہ، مصر)

ترجمہ:۔’’اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر واجب کیا ہے کہ وہ کافروں کو تعمیرِ مسجد سے روک دیں، کیونکہ مسجدیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی خاطر بنائی جاتی ہیں، پس جو شخص کافر ہو اس کا یہ کام نہیں کہ وہ مسجدیں تعمیر کرے، ایک جماعت کا قول ہے کہ تعمیر سے مراد یہاں تعمیرِ معروف ہے، یعنی مسجد بنانا، اور اس کی شکست و ریخت کی اصلاح و مرمت کرنا، پس کافر کو اس عمل سے باز رکھا جائے گا، چنانچہ اگر وہ اس کی وصیت کرکے مرے تو پوری نہیں کی جائے گی، اور بعض نے عمارۃ کو یہاں مسجد میں داخل ہونے اور اس میں بیٹھنے پر محمول کیا ہے۔‘‘

شیخ علاء الدین علی بن محمد البغدادی الخازن (متوفیٰ ۷۲۵ھ) نے تفسیرِ خازن میں اس مسئلے کو مزید تفصیل سے تحریر فرمایا ہے۔

مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ (متوفیٰ ۱۲۲۵ھ) لکھتے ہیں:

’فَإِنَّهُ يَجِبُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَنْعَهُمْ مِنْ ذٰلِكَ، لِأَنَّ مَسَاجِدَ اللّٰهِ إِنَّمَا تُعْمَرُ لِعِبَادَةِ اللّٰهِ وَحْدَهُ، فَمَنْ كَانَ كَافِرًا بِاللّٰهِ فَلَيْسَ مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَعْمُرَهَا۔‘‘(تفسیر مظہری ج:۴ ص:۱۴۶، ندوۃ المصنّفین، دہلی)

ترجمہ:۔’’چنانچہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ کافروں کو تعمیرِ مسجد سے روک دیں، کیونکہ مسجدیں تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں، پس جو شخص کہ کافر ہو وہ ان کو تعمیر کرنے کا اہل نہیں۔‘‘

اور شاہ عبدالقادر دہلویؒ (متوفی ۱۲۳۰ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

’’اور علماء نے لکھا ہے کہ کافر چاہے مسجد بناوے اس کو منع کرئیے۔‘‘ (موضح القرآن)

ان تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ مسجد کی تعمیر کریں اور یہ کہ اگر وہ ایسی جرأت کریں تو ان کو روک دینا مسلمانوں پر فرض ہے۔

تعمیرِ مسجد صرف مسلمانوں کا حق ہے:

قرآنِ کریم نے جہاں یہ بتایا ہے کہ کافر تعمیرِ مسجد کا اہل نہیں، وہاں یہ تصریح بھی فرمائی ہے کہ تعمیرِ مسجد کا حق صرف مسلمانوں کو حاصل ہے، چنانچہ ارشاد ہے:

ﵟ إِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَلَمۡ يَخۡشَ إِلَّا ٱللَّهَۖ فَعَسَىٰٓ أُوْلَٰٓئِكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُهۡتَدِينَ ١٨ ﵞ التوبة ١٨

ترجمہ:۔’’اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا تو بس اس شخص کا کام ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، نماز ادا کرتا ہو، زکوٰۃ دیتا ہو اور اس کے سوا کسی سے نہ ڈرے، پس ایسے لوگ اُمید ہے کہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔‘‘

اس آیت میں جن صفات کا ذکر فرمایا، وہ مسلمانوں کی نمایاں صفات ہیں، مطلب یہ ہے کہ جو شخص پورے دینِ محمدی پر ایمان رکھتا ہو اور کسی حصۂ دین کا منکر نہ ہو، اسی کو تعمیرِ مسجد کا حق حاصل ہے، غیرمسلم فرقے جب تک دینِ اسلام کی تمام باتوں کو تسلیم نہیں کریں گے، تعمیرِ مسجد کے حق سے محروم رہیں گے۔

غیرمسلموں کی تعمیر کردہ مسجد ’’مسجدِ ضرار‘‘ ہے:

اسلام کے چودہ سو سالہ دور میں کبھی کسی غیرمسلم نے یہ جرأت نہیں کی کہ اپنا عبادت خانہ ’’مسجد‘‘ کے نام سے تعمیر کرے، البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بعض غیرمسلموں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور مسجد کے نام سے ایک عمارت بنائی جو ’’مسجدِ ضرار‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وحیٔ الٰہی سے ان کے کفر و نفاق کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فی الفور منہدم کرنے کا حکم فرمایا، قرآنِ کریم کی آیاتِ ذیل اسی واقعے سے متعلق ہیں:

ﵟ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مَسۡجِدٗا ضِرَارٗا وَكُفۡرٗا وَتَفۡرِيقَۢا بَيۡنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَإِرۡصَادٗا لِّمَنۡ حَارَبَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ مِن قَبۡلُۚ وَلَيَحۡلِفُنَّ إِنۡ أَرَدۡنَآ إِلَّا ٱلۡحُسۡنَىٰۖ وَٱللَّهُ يَشۡهَدُ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ ١٠٧ ﵞ...الي قوله... لَا تَقُمۡ فِيهِ أَبَدٗاۚ...لَا يَزَالُ بُنۡيَٰنُهُمُ ٱلَّذِي بَنَوۡاْ رِيبَةٗ فِي قُلُوبِهِمۡ إِلَّآ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﵞ التوبة ١٠٧ و ١١٠

ترجمہ:۔’’اور جن لوگوں نے مسجد بنائی کہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں اور کفر کریں اور اہلِ ایمان کے درمیان تفرقہ ڈالیں اور اللہ و رسول کے دُشمن کے لئے ایک کمین گاہ بنائیں، اور یہ لوگ زور کی قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہیں کیا، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس میں کبھی قیام نہ کیجئے ۔۔۔ ان کی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی، ہمیشہ ان کے دِل کا کانٹا بنی رہے گی، مگر یہ کہ ان کے دِل کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور اللہ علیم و حکیم ہے۔‘‘

ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ:

الف:۔ کسی غیر مسلم گروہ کی اسلام کے نام پر تعمیر کردہ ’’مسجد‘‘، ’’مسجدِ ضرار‘‘ کہلائے گی۔

ب:۔ غیرمسلم منافقوں کی ایسی تعمیر کے مقاصد ہمیشہ حسبِ ذیل ہوں گے:

۱:۔اسلام اور مسلمانوں کو ضرر پہنچانا۔

۲:۔ عقائدِ کفر کی اشاعت کرنا۔

۳:۔ مسلمانوں کی جماعت میں انتشار پھیلانا اور تفرقہ پیدا کرنا۔

۴:۔ خدا اور رسول کے دُشمنوں کے لئے ایک اڈّہ بنانا۔

ج:۔ چونکہ منافقوں کے یہ خفیہ منصوبے ناقابلِ برداشت ہیں، اس لئے حکم دیا گیا کہ ایسی نام نہاد ’’مسجد‘‘ کو منہدم کردیا جائے۔ تمام مفسرین اور اہلِ سیَر نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ’’مسجدِ ضرار‘‘ منہدم کردی گئی اور اسے نذرِ آتش کردیا گیا۔(۱) مرزائی منافقوں کی تعمیر کردہ نام نہاد ’’مسجدیں‘‘ بھی ’’مسجدِ ضرار‘‘ ہیں، اور وہ بھی اسی سلوک کی مستحق ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مسجدِ ضرار‘‘ سے روا رکھا تھا۔

کافر ناپاک اور مسجدوں میں ان کا داخلہ ممنوع:

یہ اَمر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ قرآنِ کریم نے کفار و مشرکین کو ان کے ناپاک اور گندے عقائد کی بنا پر نجس قرار دیا ہے، اور اس معنوی نجاست کے ساتھ ان کی آلودگی کا تقاضا یہ ہے کہ مساجد کو ان کے وجود سے پاک رکھا جائے، ارشادِ خداوندی ہے:

ﵟ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٞ فَلَا يَقۡرَبُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هَٰذَاۚ ﵞ التوبة ١٢٨

ترجمہ:۔’’اے ایمان والو! مشرک تو نرے ناپاک ہیں، پس وہ اس سال کے بعد مسجدِ حرام کے قریب بھی پھٹکنے نہ پائیں۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر اور مشرک کا مسجد میں داخلہ ممنوع ہے۔

اِمام ابوبکر جصاص رازی (متوفیٰ ۳۷۰ھ) لکھتے ہیں:

’’إِطْلَاقُ اسْمِ النَّجَسِ عَلَى الْمُشْرِكِ مِنْ جِهَةِ أَنَّ الشِّرْكَ الَّذِي يَعْتَقِدُهُ يَجِبُ اجْتِنَابُهُ كَمَا يَجِبُ اجْتِنَابُ النَّجَاسَاتِ وَالْأَقْذَارِ، فَلِذٰلِكَ سَمَّاهُمْ نَجَسًا، وَالنَّجَاسَةُ فِي الشَّرْعِ تَنْصَرِفُ عَلٰى وَجْهَيْنِ، أَحَدُهُمَا: نَجَاسَةُ الْأَعْيَانِ، وَالْآخَرُ: نَجَاسَةُ الذُّنُوبِ، وَقَدْ أَفَادَ قَوْلُهُ: ﵟإِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٞﵞ،مَنْعَهُمْ عَنْ دُخُولِ الْمَسْجِدِ إِلَّا لِعُذْرٍ، إِذْ كَانَ عَلَيْنَا تَطْهِيرُ الْمَسَاجِدِ مِنَ الْأَنْجَاسِ۔‘‘ (اَحکام القرآن ج:۳ ص: ۱۰۸، مطبوعہ سہیل اکیڈمی، لاہور)

ترجمہ:۔’’مشرک پر ’’نجس‘‘ کا اطلاق اس بنا پر کیا گیا کہ جس شرک کا وہ اعتقاد رکھتا ہے، اس سے پرہیز کرنا اسی طرح ضروری ہے جیسا کہ نجاستوں اور گندگیوں سے، اسی لئے ان کو نجس کہا، اور شرع میں نجاست کی دو قسمیں ہیں، ایک نجاستِ جسم، دوم نجاستِ گناہ، اور ارشادِ خداوندی: ’’إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٞ ‘‘ بتاتا ہے کہ کفار کو دُخولِ مسجد سے باز رکھا جائے گا، اِلَّا یہ کہ کوئی عذر ہو، کیونکہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مسجدوں کو نجاستوں سے پاک رکھیں۔‘‘

اِمام محی السنۃ بغوی (متوفیٰ ۵۱۶ھ) معالم التنزیل میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

’’وَجُمْلَةُ بِلَادِ الْإِسْلَامِ فِي حَقِّ الْكُفَّارِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ: أَحَدُهَا: الْحَرَمُ، فَلَا يَجُوزُ لِلْكَافِرِ أَنْ يَدْخُلَهُ بِحَالٍ، ذَمِّيًّا كَانَ أَوْ مُسْتَأْمَنًا بِظَاهِرِ هٰذِهِ الْآيَةِ. وَجَوَّزَ أَهْلُ الْكُوفَةِ لِلْمُعَاهَدِ دُخُولَ الْحَرَمِ. وَالْقِسْمُ الثَّانِي: مِنْ بِلَادِ الْإِسْلَامِ الْحِجَازُ، فَيَجُوزُ لِلْكَافِرِ دُخُولُهَا بِالْإِذْنِ، وَلٰكِنْ لَا يُقِيمُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مَقَامِ السَّفَرِ، وَهُوَ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ. وَالْقِسْمُ الثَّالِثُ: سَائِرُ بِلَادِ الْإِسْلَامِ، يَجُوزُ لِلْكَافِرِ أَنْ يُقِيمَ فِيهَا بِذِمَّةٍ أَوْ أَمَانٍ، وَلٰكِنْ لَا يَدْخُلُونَ الْمَسَاجِدَ إِلَّا بِإِذْنِ مُسْلِمٍ۔‘‘ (تفسیر بغوی ج:۳ ص:۶۳، مطبوعہ علمیہ، مصر)

ترجمہ:۔’’اور کفار کے حق میں تمام اسلامی علاقے تین قسم پر ہیں، ایک حرمِ مکہ، پس کافر کو اس میں داخل ہونا کسی حال میں بھی جائز نہیں، خواہ کسی اسلامی مملکت کا شہری ہو یا امن لے کر آیا ہو، کیونکہ ظاہر آیت کا یہی تقاضا ہے۔ اور اہلِ کوفہ نے ذمی کے لئے حرم میں داخل ہونے کو جائز رکھا ہے۔ اور دُوسری قسم حجازِ مقدس ہے، پس کافر کے لئے اجازت لے کر حجاز میں داخل ہونا جائز ہے، لیکن تین دن سے زیادہ وہاں ٹھہرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ اور تیسری قسم دیگر اسلامی ممالک ہیں، ان میں کافر کا مقیم ہونا جائز ہے، بشرطیکہ ذمی ہو یا امن لے کر آئے، لیکن وہ مسلمانوں کی مسجدوں میں مسلمان کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتے۔‘‘

اس سلسلے میں دو چیزیں خاص طور سے قابلِ غور ہیں، اوّل یہ کہ آیت میں صرف مشرکین کا حکم ذکر کیا گیا ہے، مگر مفسرین نے اس آیت کے تحت عام کفار کا حکم بیان فرمایا ہے، کیونکہ کفر کی نجاست سب کافروں کو شامل ہے۔ دوم یہ کہ کافر کا مسجد میں داخل ہونا جائز ہے یا نہیں؟ اس مسئلے میں تو اختلاف ہے، اِمام مالکؒ کے نزدیک کسی مسجد میں کافر کا داخل ہونا جائز نہیں، اِمام شافعیؒ کے نزدیک مسجدِ حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں کافر کو مسلمان کی اجازت سے داخل ہونا جائز ہے، اور اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک بوقتِ ضرورت ہر مسجد میں داخل ہوسکتا ہے (رُوح المعانی ج:۱۰ ص:۷۷)،(۲) لیکن کسی کافر کا مسجد کا بانی، متولّی یا خادم ہونا کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے۔

نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد ۹ہجری میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد کے ایک جانب ٹھہرایا اور مسجدِ نبوی ہی میں انہوں نے اپنی نماز بھی ادا کی۔

حافظ ابنِ قیم (متوفیٰ ۷۵۱ھ) اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’فَصْلٌ فِي فِقْهِ هٰذِهِ الْقِصَّةِ: فَفِيهَا جَوَازُ دُخُولِ أَهْلِ الْكِتَابِ مَسَاجِدَ الْمُسْلِمِينَ، وَفِيهَا تَمْكِينُ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ صَلَاتِهِمْ بِحَضْرَةِ الْمُسْلِمِينَ وَفِي مَسَاجِدِهِمْ أَيْضًا، إِذَا كَانَ ذٰلِكَ عَارِضًا وَلَا يُمَكَّنُوا مِنِ اعْتِيَادِ ذٰلِكَ۔۔‘‘ (زاد المعاد ج:۳ ص:۶۳۸، مطبوعہ مکتبہ المنار الاسلامیہ، کویت)

ترجمہ:۔’’فصل اس قصے کے فقہ کے بیان میں، پس اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب کا مسلمانوں کی مسجدوں میں داخل ہونا جائز ہے، اور یہ کہ ان کو مسلمانوں کی موجودگی میں اپنی عبادت کا موقع دیا جائے گا اور مسلمانوں کی مسجدوں میں بھی، جبکہ یہ ایک عارضی صورت ہو لیکن ان کو اس بات کا موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ اس کو اپنی مستقل عادت ہی بنالیں۔‘‘

اور قاضی ابوبکر بن العربی (متوفیٰ ۵۷۳ھ) لکھتے ہیں:

’’دُخُولُ ثُمَامَةَ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ، وَدُخُولُ أَبِي سُفْيَانَ فِيهِ عَلَى الْحَدِيثِ الْآخَرِ، كَانَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا. فَمَنَعَ اللّٰهُ الْمُشْرِكِينَ مِنْ دُخُولِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ نَصًّا، وَمَنَعَ دُخُولَ سَائِرِ الْمَسَاجِدِ تَعْلِيلًا بِالنَّجَاسَةِ وَلِوُجُوبِ صِيَانَةِ الْمَسْجِدِ عَنْ كُلِّ نَجَسٍ، وَهٰذَا كُلُّهُ ظَاهِرٌ لَا خَفَاءَ بِهِ۔‘‘ (اَحکام القرآن ج:۲ ص:۹۰۲ مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت)

ترجمہ:۔’’ثمامہ کا مسجد میں داخل ہونا اور دُوسری حدیث کے مطابق ابوسفیان کا اس میں داخل ہونا، اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے کہ: ’’اے ایمان والو! مشرک ناپاک ہیں، پس اس سال کے بعد وہ مسجدِ حرام کے قریب نہ آنے پائیں۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو مسجدِ حرام میں داخل ہونے سے صاف صاف منع کردیا اور دیگر مساجد سے یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ ناپاک ہیں، اور چونکہ مسجد کو نجاست سے پاک رکھنا ضروری ہے، اس لئے کافروں کے ناپاک وجود سے بھی اسکو پاک رکھا جائے گا، اور یہ سب کچھ ظاہر ہے جس میں ذرا بھی خفا نہیں۔‘‘

منافقوں کو مسجدوں سے نکال دیا جائے:

جو شخص مرزائیوں کی طرح عقیدہ رکھنے کے باوجود اسلام کا دعویٰ کرتا ہو، وہ اسلام کی اصطلاح میں منافق ہے، اور منافقین کے بارے میں یہ حکم ہے کہ انہیں مسجدوں سے نکال دیا جائے، چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ:

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا: ’’اے فلاں! اُٹھ، یہاں سے نکل جا، کیونکہ تو منافق ہے۔ او فلاں! تو بھی اُٹھ، نکل جا، تو منافق ہے‘‘ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک کا نام لے کر ۳۶ آدمیوں کو مسجد سے نکال دیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آنے میں ذرا دیر ہوگئی تھی، چنانچہ وہ اس وقت آئے جب یہ منافق مسجد سے نکل رہے تھے، تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید جمعہ کی نماز ہوچکی ہے اور لوگ نماز سے فارغ ہوکر واپس جارہے ہیں، لیکن جب اندر گئے تو معلوم ہوا کہ ابھی نماز نہیں ہوئی، مسلمان ابھی بیٹھے ہیں، ایک شخص نے بڑی مسرّت سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عمر! مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے آج منافقوں کو ذلیل و رُسوا کردیا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے لے کر بیک بینی و دوگوش انہیں مسجد سے نکال دیا۔‘‘(۳) (تفسیر رُوح المعانی ج:۱۱ ص:۱۱)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو غیرمسلم فرقہ منافقانہ طور پر اِسلام کا دعویٰ کرتا ہو، اس کو مسجدوں سے نکال دینا سنتِ نبوی ہے۔

منافقوں کی مسجد، مسجد نہیں:

فقہائے کرامؒ نے تصریح کی ہے کہ ایسے لوگوں کا حکم مرتد کا ہے، اس لئے نہ تو انہیں مسجد بنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے اور نہ ان کی تعمیر کردہ مسجد کو مسجد کا حکم دیا جاسکتا ہے۔

شیخ الاسلام مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ لکھتے ہیں:

’’وَلَوْ بَنَوْا مَسْجِدًا لَمْ يَصِرْ مَسْجِدًا، فَفِي تَنْوِيرِ الْأَبْصَارِ: مِنْ وَصَايَا الذِّمِّيِّ وَغَيْرِهِ وَصَاحِبِ الْهَوَىٰ إِذَا كَانَ لَا يَكْفُرُ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْلِمِ فِي الْوَصِيَّةِ، وَإِنْ كَانَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُرْتَدِّ۔‘‘ (اکفار الملحدین طبع جدید ص:۱۲۸)

ترجمہ:۔’’ایسے لوگ اگر مسجد بنائیں تو وہ مسجد نہیں ہوگی، چنانچہ ’’تنویر الابصار‘‘ کے وصایا ذمی وغیرہ میں ہے کہ: گمراہ فرقوں کی گمراہی اگر حدِ کفر کو پہنچی ہوئی نہ ہو تب تو وصیت میں ان کا حکم مسلمان جیسا ہے، اور اگر حدِ کفر کو پہنچی ہوئی ہو تو بمنزلہ مرتد کے ہیں۔‘‘

منافقوں کے مسلمان ہونے کی شرط:

یہاں یہ تصریح بھی ضروری ہے کہ کسی گمراہ فرقے کا دعویٔ اسلام کرنا یا اسلامی کلمہ پڑھنا، اس اَمر کی ضمانت نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہے، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے ان تمام عقائد سے توبہ کا اعلان کرے جو مسلمانوں کے خلاف ہیں۔

چنانچہ حافظ بدر الدین عینیؒ ’’عمدۃ القاری شرح بخاری‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’يَجِبُ عَلَيْهِمْ أَيْضًا عِنْدَ الدُّخُولِ فِي الْإِسْلَامِ أَنْ يُقِرُّوا بِبُطْلَانِ مَا يُخَالِفُونَ بِهِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْاعْتِقَادِ بَعْدَ إِقْرَارِهِمْ بِالشَّهَادَتَيْنِ۔۔‘‘ (الجزء الرابع ص: ۱۲۵، مطبوعہ دار الفکر)

ترجمہ:۔’’ان کے ذمہ یہ بھی لازم ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے توحید و رسالت کی شہادت کے بعد ان تمام عقائد و نظریات کے باطل ہونے کا اقرار کریں جو وہ مسلمانوں کے خلاف رکھتے ہیں۔‘‘

اور حافظ شہاب الدین ابنِ حجر عسقلانی فتح الباری شرح بخاری میں قصہ اہلِ نجران کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’وَفِي قِصَّةِ أَهْلِ نَجْرَانَ مِنَ الْفَوَائِدِ: أَنَّ إِقْرَارَ الْكَافِرِ بِالنُّبُوَّةِ لَا يُدْخِلُهُ فِي الْإِسْلَامِ حَتَّى يَلْتَزِمَ أَحْكَامَ الْإِسْلَامِ۔‘‘ (ج:۸ ص:۹۳، دار النشر الکتب الاسلامیہ، لاہور)

ترجمہ:۔’’قصہ اہلِ نجران سے دیگر مسائل کے علاوہ ایک مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ کسی کافر کی جانب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا اقرار اسے اسلام میں داخل نہیں کرتا، جب تک کہ اَحکامِ اسلام کو قبول نہ کرے۔‘‘

علامہ ابنِ عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:

’’لَا بُدَّ مَعَ الشَّهَادَتَيْنِ فِي الْعِيسَوِيِّ مِنْ أَنْ يَتَبَرَّأَ مِنْ دِينِهِ۔۔‘‘ (رد المحتار ج:۱ ص:۳۵۳، مطبوعہ ایچ ایم سعید کراچی)

ترجمہ:۔’’عیسوی فرقے کے مسلمان ہونے کے لئے اقرارِ شہادتین کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے مذہب سے براء ت کا اعلان کرے۔‘‘

ان تصریحات سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی فرقہ اس وقت تک مسلمان تصوّر نہیں کیا جائے گا جب تک کہ وہ اہلِ اسلام کے عقائد کے صحیح اور اپنے عقائد کے باطل ہونے کا اعلان نہ کرے، ورنہ اگر وہ اپنے عقائدِ کفر کو صحیح سمجھتا ہے اور مسلمانوں کے عقائد کو غلط تصوّر کرتا ہے تو اس کی حیثیت مرتد کی ہے اور اسے اپنی عبادت گاہ کو مسجد کی حیثیت سے تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

کسی غیرمسلم کا مسجد کے مشابہ عبادت گاہ بنانا:

اب ایک سوال اور باقی رہ جاتا ہے کہ کیا کوئی غیرمسلم اپنی عبادت گاہ (مسجد کے نام سے نہ سہی لیکن) وضع و شکل میں مسجد کے مشابہ بناسکتا ہے؟ کیا اسے یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں قبلہ رُخ محراب بنائے، مینار بنائے، اس پر منبر رکھے، اور وہاں اسلام کے معروف طریقہ پر اَذان دے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ:

’’وہ تمام اُمور جو عرفاً و شرعاً مسلمانوں کی مسجد کے لئے مخصوص ہیں، کسی غیرمسلم کو ان کے اپنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اس لئے کہ اگر کسی غیرمسلم کی عبادت گاہ مسجد کی وضع و شکل پر تعمیر کی گئی ہو، مثلاً اس میں قبلہ رُخ محراب بھی ہو، مینار اور منبر بھی ہو، وہاں اسلامی اَذان اور خطبہ بھی ہوتا ہو، تو اس سے مسلمانوں کو دھوکا اور التباس ہوگا، ہر دیکھنے والا اس کو ’’مسجد‘‘ ہی تصوّر کرے گا، جبکہ اسلام کی نظر میں غیرمسلم کی عبادت گاہ مسجد نہیں بلکہ مجمع شیاطین ہے۔‘‘ (۴)(شامی ج:۱ ص:۳۸۰، مطلب تکرہ الصلٰوۃ فی الکـنیسۃ، مطبوعہ ایچ ایم سعید، کراچی، البحر الرائق ج:۷ ص:۲۱۴، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت)

حافظ ابنِ تیمیہؒ (متوفیٰ ۷۲۸ھ) سے سوال کیا گیا کہ آیا کفار کی عبادت گاہ کو بیت اللہ کہنا صحیح ہے؟ جواب میں فرمایا:

’’لَيْسَتْ بُيُوتُ اللّٰهِ، وَإِنَّمَا بُيُوتُ اللّٰهِ الْمَسَاجِدُ، بَلْ هِيَ بُيُوتٌ يُكْفَرُ فِيهَا بِاللّٰهِ، وَإِنْ كَانَ قَدْ يُذْكَرُ فِيهَا، فَالْبُيُوتُ بِمَنْزِلَةِ أَهْلِهَا، وَأَهْلُهَا كُفَّارٌ، فَهِيَ بُيُوتُ عِبَادَةِ الْكُفَّارِ۔‘‘ (فتاویٰ ابنِ تیمیہؒ ج:۱ ص:۱۱۵، دار القلم بیروت)

ترجمہ:۔’’یہ بیت اللہ نہیں، بیت اللہ مسجدیں ہیں، یہ تو وہ مقامات ہیں جہاں کفر ہوتا ہے، اگرچہ ان میں بھی ذکر ہوتا ہے، پس مکانات کا وہی حکم ہے جو ان کے بانیوں کا ہے، ان کے بانی کافر ہیں، پس یہ کافروں کی عبادت گاہیں ہیں۔‘‘

اِمام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (متوفیٰ ۳۱۰ھ) ’’مسجدِ ضرار‘‘ کے بارے میں نقل کرتے ہیں:

’’عَمَدَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ النِّفَاقِ فَابْتَنَوْا مَسْجِدًا بِقُبَاءَ لِيُضَاهُوا بِهِ مَسْجِدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ ۔‘‘ (تفسیر ابنِ جریر ج:۷ ص:۲۵، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

ترجمہ:۔’’اہلِ نفاق میں سے چند لوگوں نے یہ حرکت کی کہ قبا میں ایک مسجد بناڈالی، جس سے مقصود یہ تھا کہ وہ اس کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد سے مشابہت کریں۔‘‘

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے منافقانہ طور پر ’’مسجدِ ضرار‘‘ بنائی تھی، ان کا مقصد یہی تھا کہ اپنی نام نہاد ’’مسجد‘‘ کو اسلامی مساجد کے مشابہ بناکر مسلمانوں کو دھوکا دیں، لہٰذا غیرمسلموں کی جو عبادت گاہ مسجد کی وضع و شکل پر ہوگی وہ ’’مسجدِ ضرار‘‘ ہے، اور اس کا منہدم کردینا لازم ہے۔ علاوہ ازیں فقہائے کرامؒ نے تصریح کی ہے کہ اسلامی مملکت کے غیرمسلم شہریوں کا لباس اور ان کی وضع قطع مسلمانوں سے ممتاز ہونی چاہئے، (یہ مسئلہ فقہِ اسلامی کی ہر کتاب میں باب اَحکام اہل الذمہ کے عنوان کے تحت موجود ہے)۔

چنانچہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ملکِ شام کے عیسائیوں سے جو عہدنامہ لکھوایا تھا، اس کا پورا متن اِمام بیہقی کی سننِ کبریٰ (ج:۹ ص:۲۰۲) اور کنز العمال جلد چہارم (طبع جدید) صفحہ:۵۰۴ میں حدیث نمبر:۱۱۴۹۳ کے تحت درج ہے، اس کا ایک فقرہ یہاں نقل کرتا ہوں:

’’وَلَا نَتَشَبَّهُ بِهِمْ فِي شَيْءٍ مِنْ لِبَاسِهِمْ، مِنْ قَلَنْسُوَةٍ وَلَا عِمَامَةٍ وَلَا نَعْلَيْنِ وَلَا فَرْقِ شَعْرٍ، وَلَا نَتَكَلَّمُ بِكَلَامِهِمْ، وَلَا نَكْتَنِي بِكُنَاهُمْ۔‘‘

ترجمہ:۔’’اور ہم مسلمانوں کے لباس اور ان کی وضع قطع میں ان کی مشابہت نہیں کریں گے، نہ ٹوپی میں، نہ دستار میں، نہ جوتے میں، نہ سر کی مانگ نکالنے میں، اور ہم مسلمانوں کے کلام اور اصطلاحات میں بات نہیں کریں گے، اور نہ ان کی کنیت اپنائیں گے۔‘‘

اندازہ فرمائیے! جب لباس، وضع قطع، ٹوپی، دستار، پاؤں کے جوتے اور سر کی مانگ تک میں کافروں کی مسلمانوں سے مشابہت گوارا نہیں کی گئی تو اسلام یہ کس طرح برداشت کرسکتا ہے کہ غیرمسلم کافر، اپنی عبادت گاہیں مسلمانوں کی مسجد کی شکل و وضع پربنانے لگیں؟

مسجد کا قبلہ رُخ ہونا اسلام کا شعار ہے:

اُوپر عرض کیا جاچکا ہے کہ مسجد اسلام کا بلند ترین شعار ہے، ’’مسجد‘‘ کے اوصاف و خصوصیت پر الگ الگ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں ایک ایک چیز مستقل طور پر بھی شعارِ اسلام ہے، مثلاً: استقبالِ قبلہ کو لیجئے! مذاہبِ عالم میں یہ خصوصیت صرف اسلام کو حاصل ہے کہ اس کی اہم ترین عبادت ’’نماز‘‘ میں بیت اللہ شریف کی طرف منہ کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے استقبالِ قبلہ کو اسلام کا خصوصی شعار قرار دے کر اس شخص کے جو ہمارے قبلہ کی جانب رُخ کرکے نماز پڑھتا ہو، مسلمان ہونے کی علامت قرار دیا ہے، جیسا کہ اِرشاد ہے:

’’مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذٰلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللّٰهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللّٰهَ ذِمَّتَهُ۔۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۵۶)

ترجمہ:۔’’جو شخص ہمارے جیسی نماز پڑھتا ہو، ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرتا ہو، ہمارا ذبیحہ کھاتا ہو، پس یہ شخص مسلمان ہے، جس کے لئے اللہ کا اور اس کے رسول کا عہد ہے، پس اللہ کے عہد کو مت توڑو۔‘‘

ظاہر ہے کہ اس حدیث کا یہ منشا نہیں کہ ایک شخص خواہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر ہو، قرآنِ کریم کے قطعی ارشادات کو جھٹلاتا اور مسلمانوں سے الگ عقائد رکھتا ہو، تب بھی وہ ان تین کاموں کی وجہ سے مسلمان ہی شمار ہوگا؟ نہیں! بلکہ حدیث کا منشا یہ ہے کہ نماز، استقبالِ قبلہ اور ذبیحہ کا معروف طریقہ صرف مسلمانوں کا شعار ہے، جو اس وقت کے مذاہبِ عالم سے ممتاز رکھا گیا تھا، پس کسی غیرمسلم کو یہ حق نہیں کہ عقائدِ کفر رکھنے کے باوجود ہمارے اس شعار کو اپنائے۔

چنانچہ حافظ بدرالدین عینیؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’وَاسْتِقْبَالُ قِبْلَتِنَا مَخْصُوْصٌ بِنَا۔‘‘ (عمدۃ القاری ج:۲ ص:۲۹۶)

ترجمہ:۔’’اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرنا، ہمارے ساتھ مخصوص ہے۔‘‘

اور حافظ ابنِ حجرؒ لکھتے ہیں:

’’وَحِكْمَةُ الِاقْتِصَارِ عَلَى مَا ذُكِرَ مِنَ الْأَفْعَالِ: أَنَّ مَنْ يُقِرُّ بِالتَّوْحِيدِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَإِنْ صَلَّوْا وَاسْتَقْبَلُوا وَذَبَحُوا، لٰكِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ مِثْلَ صَلَاتِنَا، وَلَا يَسْتَقْبِلُونَ قِبْلَتَنَا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَذْبَحُ لِغَيْرِ اللّٰهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يَأْكُلُ ذَبِيحَتَنَا، وَالِاطِّلَاعُ عَلَى حَالِ الْمَرْءِ فِي صَلَاتِهِ وَأَكْلِهِ يُمْكِنُ بِسُرْعَةٍ فِي أَوَّلِ يَوْمٍ، بِخِلَافِ غَيْرِ ذٰلِكَ مِنْ أُمُورِ الدِّينِ۔‘‘ (فتح الباری ج:۱ ص:۴۱۷، مطبوعہ دار النشر الکتب الاسلامیہ، لاہور)

ترجمہ:۔’’اور مذکورہ بالا افعال پر اکتفا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اہلِ کتاب میں سے جو لوگ توحید کے قائل ہوں وہ اگرچہ نماز بھی پڑھتے ہوں، قبلہ کا استقبال بھی کرتے ہوں اور ذبح بھی کرتے ہوں، لیکن وہ نہ تو ہمارے جیسی نماز پڑھتے ہیں، نہ ہمارے قبلہ کا استقبال کرتے ہیں، اور ان میں سے بعض غیراللہ کے لئے ذبح کرتے ہیں، بعض ہمارا ذبیحہ نہیں کھاتے، اور آدمی کی حالت نماز پڑھنے اور کھانا کھانے سے فوراً پہلے دن پہچانی جاتی ہے، دین کے دُوسرے کاموں میں اتنی جلدی اطلاع نہیں ہوتی، اس لئے مسلمان کی تین نمایاں علامتیں ذکر فرمائیں۔‘‘

اور شیخ مُلَّا علی قاریؒ لکھتے ہیں:

’’إِنَّمَا ذَكَرَهُ مَعَ اندِرَاجِهِ فِي الصَّلَاةِ لِأَنَّ الْقِبْلَةَ أَعْرَفُ، إِذْ كُلُّ أَحَدٍ يَعْرِفُ قِبْلَتَهُ وَإِنْ لَمْ يَعْرِفْ صَلَاتَهُ، وَلِأَنَّ فِي صَلَاتِنَا مَا يُوجَدُ فِي صَلَاةِ غَيْرِنَا، وَاسْتِقْبَالُ قِبْلَتِنَا مَخْصُوصٌ بِنَا۔‘‘ (مرقاۃ المفاتیح ج:۱ ص:۷۲، طبع بمبئی)

ترجمہ:۔’’نماز میں استقبالِ قبلہ خود آجاتا ہے، مگر اس کو الگ ذکر فرمایا، کیونکہ قبلہ اسلام کی سب سے معروف علامت ہے، کیونکہ ہر شخص اپنے قبلہ کو جانتا ہے، خواہ نماز کو نہ جانتا ہو، اور اس لئے بھی کہ ہماری نماز کی بعض چیزیں دُوسرے مذاہب کی نماز میں بھی پائی جاتی ہیں، مگر ہمارے قبلہ کی جانب منہ کرنا یہ صرف ہماری خصوصیت ہے۔‘‘

ان تشریحات سے واضح ہوا کہ ’’استقبالِ قبلہ‘‘ اسلام کا اہم ترین شعار اور مسلمانوں کی معروف ترین علامت ہے، اسی بنا پر اہلِ اسلام کا لقب ’’اہلِ قبلہ‘‘ قرار دیا گیا ہے، پس جو شخص اسلام کے قطعی، متواتر اور مُسلَّمہ عقائد کے خلاف کوئی عقیدہ رکھتا ہو، وہ ’’اہلِ قبلہ‘‘ میں داخل نہیں، نہ اسے استقبالِ قبلہ کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

محراب اسلام کا شعار ہے:

مسجد کے مسجد ہونے کے لئے کوئی مخصوص شکل و وضع لازم نہیں کی گئی، لیکن مسلمانوں کے عرف میں چند چیزیں مسجد کی مخصوص علامت کی حیثیت میں معروف ہیں، ایک ان میں سے مسجد کی محراب ہے، جو قبلہ کا رُخ متعین کرنے کے لئے تجویز کی گئی ہے۔

حافظ بدرالدین عینیؒ ’’عمدۃ القاری‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ذَكَرَ أَبُو الْبَقَاءِ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَضَعَ مِحْرَابَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَامَةَ الْكَعْبَةِ، وَقِيلَ: كَانَ ذٰلِكَ بِالْمُعَايَنَةِ، بِأَنْ كُشِفَ الْحَالُ وَأُزِيلَتِ الْحَوَائِلُ، فَرَأَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ، فَوَضَعَ قِبْلَةَ مَسْجِدِهِ عَلَيْهَا۔‘‘ (عمدۃ القاری شرح بخاری الجزء الرابع ص:۱۲۶، طبع دارالفکر، بیروت)

ترجمہ:۔’’اور ابوالبقاء نے ذکر کیا ہے کہ جبریل علیہ السلام نے کعبہ کی سیدھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محراب بنائی اور کہا گیا ہے کہ یہ معائنہ کے ذریعہ ہوا، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے پردے ہٹادئیے گئے اور صحیح حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف ہوگیا، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو دیکھ کر اپنی مسجد کا قبلہ رُخ متعین کیا۔‘‘

اس سے دو اَمر واضح ہوتے ہیں، اوّل یہ کہ محراب کی ضرورت تعینِ قبلہ کے لئے ہے، تاکہ محراب کو دیکھ کر نمازی اپنا قبلہ رُخ متعین کرسکے۔ دوم یہ کہ جب سے مسجدِ نبوی کی تعمیر ہوئی، اسی وقت سے محراب کا نشان بھی لگادیا گیا، خواہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کی نشاندہی کی ہو، یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ کشف خود ہی تجویز فرمائی ہو۔

البتہ یہ جوف دار محراب جو آج کل مساجد میں ’’قبلہ رُخ‘‘ ہوا کرتی ہے، اس کی ابتدا خلیفۂ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اس وقت کی تھی جب وہ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں مدینہ طیبہ کے گورنر تھے، (وفاء الوفاء ص:۵۲۵ وما بعد) یہ صحابہؓ وتابعینؒ کا دور تھا، اور اس وقت سے آج تک مسجد میں محراب بنانا مسلمانوں کا شعار رہا ہے۔

فتاویٰ قاضی خان میں ہے:

’’وَجْهَةُ الْكَعْبَةِ تُعْرَفُ بِالدَّلِيلِ، وَالدَّلِيلُ فِي الْأَمْصَارِ وَالْقُرَى الْمَحَارِيبُ الَّتِي نَصَبَهَا الصَّحَابَةُ وَالتَّابِعُونَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، فَعَلَيْنَا اتِّبَاعُهُمْ فِي اسْتِقْبَالِ الْمَحَارِبِ الْمَنْصُوبَةِ۔‘‘(البحر الرائق ج:۱ ص: ۲۸۵، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت)

ترجمہ:۔’’اور قبلہ کا رُخ کسی علامت سے معلوم ہوسکتا ہے، اور شہروں اور آبادیوں میں قبلہ کی علامت وہ محرابیں ہیں جو صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم اجمعین نے بنائیں، پس بنی ہوئی محرابوں میں ہم پر ان کی پیروی لازم ہے۔‘‘

یعنی یہ محرابیں، جو مسلمانوں کی مسجدوں میں صحابہؓ و تابعینؒ کے زمانے سے چلی آتی ہیں، دراصل قبلہ کا رُخ متعین کرنے کے لئے ہیں اور اُوپر گزر چکا ہے کہ استقبالِ قبلہ ملتِ اسلامیہ کا شعار ہے، اور محراب جہتِ قبلہ کی علامت کے طور پر مسجد کا شعار ہے، اس لئے کسی غیرمسلم کی عبادت گاہ میں محراب کا ہونا ایک تو اسلامی شعار کی توہین ہے۔ اس کے علاوہ ان محراب والی عبادت گاہوں کو دیکھ کر ہر شخص انہیں ’’مسجد‘‘ تصوّر کرے گا، اور یہ اہلِ اسلام کے ساتھ فریب اور دغا ہے، لہٰذا جب تک کوئی غیرمسلم گروہ مسلمانوں کے تمام اُصول و عقائد کو تسلیم کرکے مسلمانوں کی جماعت میں شامل نہیں ہوتا، تب تک اس کی ’’مسجد نما‘‘ عبادت گاہ عیاری اور مکاری کا بدترین اڈّہ ہے، جس کا اُکھاڑنا مسلمانوں پر لازم ہے، فقہائے اُمت نے لکھا ہے کہ اگر کوئی غیرمسلم بے وقت اَذان دیتا ہے تو یہ اَذان سے مذاق ہے:

’’إِنَّ الْكَافِرَ لَوْ أَذَّنَ فِي غَيْرِ الْوَقْتِ لَا يَصِيرُ بِهِ مُسْلِمًا، لِأَنَّهُ يَكُونُ مُسْتَهْزِئًا۔‘‘ (شامی ج:۱ ص:۳۵۳، آغاز کتاب الصلوٰۃ، طبع ایچ ایم سعید، کراچی)

ترجمہ:۔’’کافر اگر بے وقت اَذان کہے تو وہ اس سے مسلمان نہیں ہوگا، کیونکہ وہ دراصل مذاق اُڑاتا ہے۔‘‘

ٹھیک اسی طرح سے کسی غیرمسلم گروہ کا اپنے عقائدِ کفر کے باوجود اسلامی شعائر کی نقالی کرنا اور اپنی عبادت گاہ مسجد کی شکل میں بنانا، دراصل مسلمانوں کے اسلامی شعائر سے مذاق ہے، اور یہ مذاق مسلمان برداشت نہیں کرسکتے!

اَذان:

مسجد میں اَذان نماز کی دعوت کے لئے دی جاتی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو مشورہ ہوا کہ نماز کی اطلاع کے لئے کوئی صورت تجویز ہونی چاہئے، بعض حضرات نے گھنٹی بجانے کی تجویز پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر رَدّ فرمادیا کہ یہ نصاریٰ کا شعار ہے۔ دُوسری تجویز پیش کی گئی کہ بوق (باجا) بجادیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی قبول نہیں فرمایا کہ یہ یہود کا وطیرہ ہے۔ تیسری تجویز آگ جلانے کی پیش کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے۔ یہ مجلس اس فیصلے پر برخاست ہوئی کہ ایک شخص نماز کے وقت کا اعلان کردیا کرے کہ نماز تیار ہے۔ بعد ازاں بعض حضراتِ صحابہؓ کو خواب میں اَذان کا طریقہ سکھایا گیا، جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، اور اس وقت سے مسلمانوں میں یہ اَذان رائج ہوئی(فتح الباری ج:۲ ص:۸۰، مطبوعہ لاہور)۔(۵)

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اس واقعے پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وَهٰذِهِ الْقِصَّةُ دَلِيلٌ وَاضِحٌ عَلَى أَنَّ الْأَحْكَامَ إِنَّمَا شُرِعَتْ لِأَجْلِ الْمَصَالِحِ، وَأَنَّ لِلِاجْتِهَادِ فِيهَا مَدْخَلًا، وَأَنَّ التَّيْسِيرَ أَصْلٌ أَصِيلٌ، وَأَنَّ مُخَالَفَةَ أَقْوَامٍ تَمَادَوْا فِي ضَلَالَتِهِمْ فِيمَا يَكُونُ يُطْلَعُ بِالْمَنَامِ وَالنَّفْثِ فِي الرُّوعِ عَلٰى مُرَادِ الْحَقِّ، لٰكِنْ لَا يُكَلَّفُ النَّاسُ بِهِ وَلَا تَنْقَطِعُ الشُّبْهَةُ حَتَّى يُقَرِّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاقْتَضَتِ الْحِكْمَةُ الْإِلٰهِيَّةُ أَنْ لَا يَكُونَ الْأَذَانُ صِرْفَ إِعْلَامٍ وَتَنْبِيهٍ، بَلْ يُضَمُّ مَعَ ذٰلِكَ أَنْ يَكُونَ مِنْ شَعَائِرِ الدِّينِ، بِحَيْثُ يَكُونُ النِّدَاءُ بِهِ عَلٰى رُؤُوسِ الْخَامِلِ، وَالتَّنْبِيهُ تَنْوِيهًا بِالدِّينِ، وَيَكُونُ قَبُولُهُ مِنَ الْقَوْمِ آيَةَ انْقِيَادِهِمْ لِدِينِ اللّٰهِ۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ ج:۱ ص:۴۷۴ مترجم)

ترجمہ:۔’’اس واقعے میں چند مسائل کی واضح دلیل ہے، اوّل یہ کہ اَحکامِ شرعیہ خاص مصلحتوں کی بنا پر مقرّر ہوئے ہیں۔ دوم یہ کہ اجتہاد کا بھی اَحکام میں دخل ہے۔ سوم یہ کہ اَحکامِ شرعیہ میں آسانی کو ملحوظ رکھنا بہت بڑا اصل ہے۔ چہارم یہ کہ شعائرِ دین میں ان لوگوں کی مخالفت جو اپنی گمراہی میں بہت آگے نکل گئے ہوں، شارع کو مطلوب ہے۔ پنجم یہ کہ غیرنبی کو بھی بذریعہ خواب یا القاء فی القلب کے مراد الٰہی کی اطلاع مل سکتی ہے، مگر وہ لوگوں کو اس کا مکلف نہیں بناسکتا، اور نہ اس سے شبہ دُور ہوسکتا ہے، جب تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تصدیق نہ فرمائیں، اور حکمتِ الٰہی کا تقاضا ہوا کہ اَذان صرف اطلاع اور تنبیہ ہی نہ ہو، بلکہ اس کے ساتھ وہ شعائرِ دین میں سے بھی ہو کہ تمام لوگوں کے سامنے اَذان کہنا تعظیمِ دین کا ذریعہ ہو اور لوگوں کا اس کو قبول کرلینا ان کے دینِ خداوندی کے تابع ہونے کی علامت ٹھہرے۔‘‘

حضرت شاہ صاحبؒ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اَذان اسلام کا بلند ترین شعار ہے، اور یہ کہ اسلام نے اپنے اس شعار میں گمراہ فرقوں کی مخالفت کو ملحوظ رکھا ہے۔ فتح القدیر جلد:۱ صفحہ:۱۶۷، فتاویٰ قاضی خان اور البحر الرائق جلد:۱ صفحہ:۲۶۹ وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ اَذان دینِ اسلام کا شعار ہے۔(۶) فقہائے کرامؒ نے جہاں مؤذّن کے شرائط شمار کئے ہیں، وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ مؤذّن مسلمان ہونا چاہئے:

’’وَأَمَّا الْإِسْلَامُ فَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ شَرْطَ صِحَّةٍ، فَلَا يَصِحُّ أَذَانُ كَافِرٍ عَلَى أَيِّ مِلَّةٍ كَانَ۔‘‘ (البحر الرائق ج:۱ ص:۲۷۹، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت)

ترجمہ:۔’’مؤذّن کے مسلمان ہونے کی شرط بھی ضروری ہے، پس کافر کی اَذان صحیح نہیں، خواہ کسی مذہب کا ہو۔‘‘

فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ مؤذّن اگر اَذان کے دوران مرتد ہوجائے تو دُوسرا شخص اَذان کہے:

’’وَلَوِ ارْتَدَّ الْمُؤَذِّنُ بَعْدَ الْأَذَانِ لَا يُعَادُ، وَإِنْ أُعِيدَ فَهُوَ أَفْضَلُ۔ كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاج۔ وَإِذَا ارْتَدَّ فِي الْأَذَانِ فَالْأَوْلَىٰ أَنْ يَبْتَدِئَ غَيْرُهُ، وَإِنْ لَمْ يَبْتَدِئْ غَيْرُهُ وَأَتَمَّهُ جَازَ۔ كَذَا فِي فَتَاوَىٰ قَاضِي خَان۔‘‘ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۵۴، مطبوعہ مصر)

ترجمہ:۔’’اگر مؤذّن اَذان کے بعد مرتد ہوجائے تو اَذان دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں، اگر لوٹائی جائے تو افضل ہے، اور اگر اَذان کے دوران مرتد ہوگیا تو بہتر یہ ہے کہ دُوسرا شخص نئے سرے سے اَذان شروع کرے، تاہم اگر دُوسرے شخص نے باقی ماندہ اَذان کو پورا کردیا تب بھی جائز ہے۔‘‘

مسجد کے مینار:

مسجد کی ایک خاص علامت، جو سب سے نمایاں ہے، اس کے مینار ہیں۔ میناروں کی ابتدا بھی صحابہؓ و تابعینؒ کے زمانے سے ہوئی، مسجدِ نبوی میں سب سے پہلے، خلیفۂ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے مینار بنوائے۔ (وفاء الوفاء ص:۵۲۵) حضرت مسلمہ بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں، وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مصر کے گورنر تھے، انہوں نے مصر کی مساجد میں مینار بنانے کا حکم فرمایا۔ (الاصابہ ج:۳ ص:۴۱۸)(۷) اس وقت سے آج تک کسی نہ کسی شکل میں مسجد کے لئے مینار ضروری سمجھے جاتے ہیں، مسجد کے مینار دو فائدوں کے لئے بنائے گئے، اوّل یہ کہ بلند جگہ نماز کی اَذان دی جائے، چنانچہ اِمام ابوداؤدؒ نے اس پر ایک مستقل باب باندھا ہے:

الأَذَانُ فَوْقَ الْمَنَارَةِ۔

حافظ جمال الدین الزیلعی نے نصب الرایہ میں حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے:

’’مِنَ السُّنَّةِ الأَذَانُ فِي الْمَنَارَةِ، وَالْإِقَامَةُ فِي الْمَسْجِدِ۔‘‘(ج:۱ ص:۲۹۳، مطبوعہ مجلس علمی بالہند)

ترجمہ:۔’’سنت یہ ہے کہ اَذان مینارہ میں ہو اور اِقامت مسجد میں۔‘‘

مینار مسجد کا دُوسرا فائدہ یہ تھا کہ مینار دیکھ کر ناواقف آدمی کو مسجد کے مسجد ہونے کا علم ہوسکے۔ گویا مسجد کی معروف ترین علامت یہ ہے کہ اس میں قبلہ رُخ محراب ہو، منبر ہو، مینار ہو، وہاں اَذان ہوتی ہو، اس لئے کسی غیرمسلم کی عبادت گاہ میں ان چیزوں کا پایا جانا اسلامی شعار کی توہین ہے، اور جب قادیانیوں کو آئینی طور پر غیرمسلم تسلیم کیا جاچکا ہے، اور ان کے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے، تو انہیں مسجد یا مسجد نما عبادت گاہ بنانے اور وہاں اَذان و اِقامت کہنے کی اجازت دینا قطعاً جائز نہیں۔ ہمارے اربابِ اِقتدار اور عدلیہ کا فرض ہے کہ غیرمسلم قادیانیوں کو اسلامی شعائر کے استعمال سے روکیں اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ پوری قوّت اور شدّت سے اس مطالبے کو منوائیں۔ حق تعالیٰ شانہ اس ملک کو منافقوں کے ہر شر سے محفوظ رکھے۔

(۱) فلما رجع إلٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سفرہ ۔۔۔ فقال انطلقا إلٰی ھٰذا المسجد الظالم أھلہ، فاھدماہ واحرقاہ فخرجا سریعین حتّٰی أتیا بنی سالم بن عوف وھم رھط مالك فقال: مالك لصاحبہ: انظرنی حتّٰی أخرج لك بنار من أھلی فدخل إلٰی أھلہ فأخذ سعفًا من النخل فأشغل فیہ نارًا ثم خرجا یشتدان حتّٰی دخلاہ وفیہ أھلہ فأحرقاہ وھدماہ وتفرقوا عنہ ونزل فیھم من القرآن ما نزل ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر رُوح المعانی ج:۱ ص:۱۸، سورۃ التوبۃ آیت: ۱۰۷ طبع إحیاء التراث العربی)۔

(۲) والحاصل أن الْإمام الأعظم یقول بالمنع عن الحج والعمرۃ ویحمل النھی علیہ ولَا یمنعون من دخول المسجد الحرام وسائر المساجد عندہ، ومذھب الشافعی ۔۔۔ أنہ لَا یجوز للکافر ذمیا کان أو مستأمنا أن یدخل المسجد الحرام بحال من الأحوال ۔۔۔ ویجوز دخولہ سائر المساجد عند الشافعی علیہ الرحمۃ، وعن مالك كل المساجد سواء فی منع الکافر عن دخولھا۔ (رُوح المعانی ج:۱۰ ص:۷۷ طبع دار إحیاء التراث العربی)۔

(۳) عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم جمعۃ خطیبًا فقال: قم یا فلان! فاخرج فإنك منافق، أخرج یا فلان! فإنك منافق، فأخرجھم بأسمائھم ففضحھم ولم یك عمر بن الخطاب شھد تلك الجمعۃ لحاجۃ کانت لہ فلقیھم وھم یخرجون من المسجد فاختبأ منھم إستحیاء أنہ لم یشھد الجمعۃ وظن أن الناس قد انصرفوا واخبتأواھم منہ وظنوا أنہ قد علم بأمرھم فدخل المسجد فإذا الناس لم ینصرفوا فقال لہ رجل: أبشر یا عمر! فقد فضح اللہ تعالی المنافقین الیوم فھٰذا العذاب الأوّل والعذاب الثانی عذاب القبر۔ (رُوح المعانی ج:۱۱ ص:۱۱ طبع دار إحیاء التراث العربی)۔

(۴) (تنبیہ) یؤخذ من التعلیل بأنہ محل الشیاطین کراھۃ الصلاۃ فی معابد الكفار لأنھا مأوی الشیاطین كما صرح بہ الشافعیۃ، ویؤخذ مما ذكروہ عندنا، ففی البحر من كتاب الدعویٰ عند قول الكنز: ولَا یحلفون فی بیت عباداتھم، فی التاترخانیۃ یكرہ للمسلم الدخول فی البیعۃ والكنیسۃ، وإنما یكرہ من حیث إنہ مجمع الشیاطین لَا من حیث أنہ لیس لہ حق الدخول اھـ۔ (شامی ج:۱ ص: ۳۸۰، مطلبتکرہ الصلاۃ فی الكنیسۃ، وأیضًا: البحر الرائق ج:۷ ص:۲۱۴)۔

(۵) لما كثر الناس أن یعلموا وقت الصلاۃ بشیء یعرفونہ ۔۔۔ عن عطاء عن خالد عند أبی الشیخ ولفظہ فقالوا لو اتخذنا ناقوسا، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذاك للنّصاریٰ، فقالوا: لو اتخذنا بوقا، فقال: ذاك للیھود، فقالوا: لو رفعنا نارًا، فقال: ذاك للمجوس۔ (فتح الباری ج:۲ ص:۸۰)۔ وفی حدیث ابن عمر ۔۔۔ قال عمر: أوَلَا تبعثون رجلا ینادی بالصلاۃ؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یا بلال! قم فناد بالصلاۃ۔ (أیضًا ج:۲ ص:۷۷)۔

(۶) لأن الأذان من أعلام الدین۔ (البحر الرائق ج:۱ ص:۲۶۹، وأیضًا: فی فتح القدیر ج:۱ ص:۱۶۷)۔

(۷) مسلمۃ بن مخلد ۔۔۔ الأنصاری الخزرجی ۔۔۔ وقال محمد بن الربیع، ولی امرۃ مصر وھو أوّل من جمعت لہ مصر والمغرب وذٰلك فی خلافۃ معاویۃ ۔۔۔ وقال ابن السكن: ھو أوّل من جعل علٰی أھل مصر بنیان المنار۔ (الْإصابۃ فی تمییز الصحابۃ ج:۳ ص:۴۱۸، طبع دار صادر مصر، حرف المیم، القسم الأوّل)۔