بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

غیرمسلم اپنی عبادت گاہ تعمیر کرکے اس کا نام مسجد نہیں رکھ سکتا

سوال:۔

کیا غیرمسلم اپنی عبادت گاہ تعمیر کرکے اس کا نام مسجد رکھ سکتے ہیں؟

جواب:۔

مسجد کے معنی لغت میں سجدہ گاہ کے ہیں، اور اسلام کی اصطلاح میں مسجد اس جگہ کا نام ہے جو مسلمانوں کی نماز کے لئے وقف کردی جائے، مُلَّا علی قاری رحمہ اللہ ’’شرحِ مشکوٰۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وَالْمَسْجِدُ لُغَةً مَحَلُّ السُّجُوْدِ، وَشَرْعًا الْمَحَلُّ الْمَوْقُوْفُ لِلصَّلَاةِ فِيْهِ۔‘‘(مرقاۃ المفاتیح ج:۱ ص:۴۴۱، مطبوعہ بمبئی)

ترجمہ:۔’’مسجد لغت میں سجدہ گاہ کا نام ہے، اور شریعتِ اسلام کی اصطلاح میں وہ مخصوص جگہ جو نماز کے لئے وقف کردی جائے۔‘‘

مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے:

مسجد کا لفظ مسلمانوں کی عبادت گاہ کے ساتھ مخصوص ہے، چنانچہ قرآنِ کریم میں مشہور مذاہب کی عبادت گاہوں کا ذکر کرتے ہوئے ’’مسجد‘‘ کو مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار دیا ہے:

ﵟوَلَوۡلَا دَفۡعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعۡضَهُم بِبَعۡضٖ لَّهُدِّمَتۡ صَوَٰمِعُ وَبِيَعٞ وَصَلَوَٰتٞ وَمَسَٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيهَا ٱسۡمُ ٱللَّهِ كَثِيرٗاۗ ﵞ(الحج ٤٠)

ترجمہ:۔’’اور اگر اللہ تعالیٰ ایک دُوسرے کے ذریعہ لوگوں کا زور نہ توڑتا تو راہبوں کے خلوت خانے، عیسائیوں کے گرجے، یہودیوں کے معبد اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے، گرادی جاتیں۔‘‘

اس آیت کے تحت مفسرین نے لکھا ہے کہ ’’صوٰمع‘‘ سے راہبوں کے خلوت خانے، ’’بِیَع‘‘ سے نصاری کے گرجے، ’’صلوٰت‘‘ سے یہودیوں کے عبادت خانے، اور ’’مسٰجد‘‘ سے مسلمانوں کی عبادت گاہیں مراد ہیں۔

اِمام ابوعبداللہ محمد بن احمد القرطبی رحمہ اللہ (المتوفیٰ ۶۷۱ھ) اپنی مشہور تفسیر ’’اَحکام القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وَذَهَبَ خَصِيْفٌ إِلٰى أَنَّ الْقَصْدَ بِهٰذِهِ الْأَسْمَاءِ تَقْسِيْمُ مُتَعَبَّدَاتِ الْأُمَمِ، فَالصَّوَامِعُ لِلرُّهْبَانِ، وَالْبِيَعُ لِلنَّصَارٰى، وَالصَّلَوَاتُ لِلْيَهُوْدِ، وَالْمَسَاجِدُ لِلْمُسْلِمِيْنَ۔‘‘ (ج:۱۲ ص:۷۲، مطبوعہ دار الکاتب العربی، القاھرۃ)

ترجمہ:۔’’اِمام خصیفؒ فرماتے ہیں کہ ان ناموں کے ذکر کرنے سے مقصود قوموں کی عبادت گاہوں کی تقسیم ہے، چنانچہ ’’صوامع‘‘ راہبوں کی، ’’بیع‘‘ عیسائیوں کی، ’’صلوات‘‘ یہودیوں کی، اور ’’مساجد‘‘ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا نام ہے۔‘‘

اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ (المتوفیٰ ۱۲۲۵ھ) ’’تفسیر مظہری‘‘ میں ان چاروں ناموں کی مندرجہ بالا تشریح ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’وَمَعْنَى الْآيَةِ: لَوْلَا دَفْعُ اللهِ النَّاسَ لَهُدِّمَتْ فِيْ كُلِّ شَرِيْعَةِ نَبِيٍّ مَكَانُ عِبَادَتِهِمْ، فَهُدِّمَتْ فِيْ زَمَنِ مُوْسٰى الْكَنَائِسُ، وَفِيْ زَمَنِ عِيْسٰى الْبِيَعُ وَالصَّوَامِعُ، وَفِيْ زَمَنِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَاجِدُ۔‘‘ (مظہری ج:۶ ص:۳۳۰، مطبوعہ ندوۃ المصنّفین، دہلی)

ترجمہ:۔ ’’آیت کے معنی یہ ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کا زور نہ توڑتا تو ہر نبی کی شریعت میں جو ان کی عبادت گاہ تھی اسے گرادیا جاتا، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں کنیسے، عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں گرجے اور خلوت خانے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجدیں گرادی جاتیں۔‘‘

یہی مضمون تفسیر ابنِ جریر ج:۹ ص:۱۱۴، تفسیر نیشاپوری بر حاشیہ ابنِ جریر ج:۹ ص:۶۳، تفسیر خازن ج:۳ ص:۲۹۱، تفسیر بغوی ج:۵ ص:۵۹۴ بر حاشیہ ابنِ کثیر، اور تفسیر رُوح المعانی ج:۱۷ ص:۱۶۴ وغیرہ میں موجود ہے۔ قرآنِ کریم کی اس آیت اور حضراتِ مفسرین کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ ’’مسجد‘‘ مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے، اور یہ نام دیگر اقوام و مذاہب کی عبادت گاہوں سے ممتاز رکھنے کے لئے تجویز کیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک یہ مقدس نام مسلمانوں کی عبادت گاہ کے علاوہ کسی غیرمسلم فرقے کی عبادت گاہ کے لئے استعمال نہیں کیا گیا، لہٰذا مسلمانوں کا یہ قانونی و اخلاقی فرض ہے کہ وہ کسی ’’غیرمسلم فرقے‘‘ کو اپنی عبادت گاہ کا یہ نام نہ رکھنے دیں۔

مسجد اِسلام کا شعار ہے:

جو چیز کسی قوم کے ساتھ مخصوص ہو وہ اس کا شعار اور اس کے تشخص کی خاص علامت سمجھی جاتی ہے، چنانچہ مسجد بھی اسلام کا خصوصی شعار ہے، یعنی کسی قریہ، شہر یا محلہ میں مسجد کا ہونا وہاں کے باشندوں کے مسلمان ہونے کی علامت ہے، اِمام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہٗ (المتوفیٰ ۱۱۷۴ھ) لکھتے ہیں:

’’فَضْلُ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ وَمُلَازَمَتِهِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ فِيْهِ تَرْجِعُ إِلٰى أَنَّهُ مِنْ شَعَائِرِ الْإِسْلَامِ، وَهُوَ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا"، وَأَنَّهُ مَحَلُّ الصَّلَاةِ وَمُعْتَكَفُ الْعَابِدِيْنَ وَمُطْرَحُ الرَّحْمَةِ وَيُشْبِهُ الْكَعْبَةَ مِنْ وَجْهٍ۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ مترجم ج:۱ ص:۴۷۸، مطبوعہ نور محمد کتب خانہ کراچی)

ترجمہ:۔’’مسجد بنانے، اس میں حاضر ہونے اور وہاں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ مسجد اسلام کا شعار ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’جب کسی آبادی میں مسجد دیکھو یا وہاں مؤذّن کی اَذان سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔‘‘ (یعنی کسی بستی میں مسجد اور اَذان کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہاں کے باشندے مسلمان ہیں)، اور مسجد نماز کی جگہ اور عبادت گزاروں کے اعتکاف کا مقام ہے، وہاں رحمتِ الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور وہ ایک طرح سے کعبہ کے مشابہ ہے۔‘‘

اگر فوج کا شعار غیرفوجی کو اپنانا جرم ہے، اور جج کا شعار کسی دُوسرے شخص کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں، تو یقینا اسلام کا شعار بھی کسی غیرمسلم کو اپنانے کی اجازت نہیں ہوسکتی، کیونکہ اگر غیرمسلموں کو کسی اسلامی شعار مثلاً تعمیرِ مسجد اور اَذان کی اجازت دی جائے تو اسلام کا شعار مٹ جاتا ہے اور مسلم و کافر کا امتیاز اُٹھ جاتا ہے۔ اسلام اور کفر کے نشانات کو ممتاز کرنے کے لئے جس طرح یہ بات ضروری ہے کہ مسلمان کفر کے کسی شعار کو نہ اپنائیں، اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ غیرمسلموں کو کسی اسلامی شعار کے اپنانے کی اجازت نہ دی جائے۔