اوقاتِنماز
جمعہ اور ظہر کی نمازوں کا افضل وقت
سوال:۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہر نماز اوّل وقت میں پڑھی جائے اور کلام مجید میں ہر نماز کا وقت بتادیا گیا ہے، ہمارے ہاں اکثر مساجد میں آج کل ظہر کی نماز اور جمعہ شریف اڑھائی بجے پڑھایا جاتا ہے اور چند مساجد میں جمعہ ۲بج کر ۵۰منٹ پر بھی ہوتا ہے، قرآن و حدیث میں دیر سے نماز پڑھنے والوں کے لئے سزا کی وعید ہے، آپ یہ بتائیں کہ دیر سے ظہر کی نماز پڑھنا کیسا ہے؟ نیز یہ کہ کیا حدیث پاک میں دیر سے نماز پڑھنے کے متعلق آیا ہے؟
جواب:۔
اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ظہر کی نماز سردیوں میں جلدی پڑھنا اور گرمیوں میں ذرا تأخیر سے پڑھنا افضل ہے،(۱) لیکن جمعہ ہمیشہ اوّل وقت میں پڑھنا ہی سنت اور اسے تأخیر سے پڑھنا خلافِ سنت ہے۔ اور اگر مثل اوّل ختم ہونے کے بعد جمعہ کی نماز ہوئی تو مفتیٰ بہ قول کے مطابق جمعہ نہیں ہوا۔ اور آپ نے جو لکھا ہے کہ: ’’قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہر نماز اوّل وقت میں پڑھی جائے‘‘ یہ ارشاد آپ نے کہاں پڑھا ہے؟ اس طرح اپنے سمجھے ہوئے مفہوم کو قرآنِ کریم کی طرف قطعیت سے منسوب کرنا بڑی جسارت ہے!(۲)
- (۱) ویستحب تأخیر الظھر فی الصیف وتعجیلہ فی الشتاء، ھٰكذا فی الکافی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۲)۔
- (۲) عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من قال فی القرآن برأیہ فلیبتوأ مقعدہ من النار۔ وفی روایۃ: من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ من النار۔ رواہ الترمذی۔ (مشكوٰۃ ص:۳۵، كتاب العلم)۔

