بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اوقاتِ‌نماز

تہجد کا وقت

سوال:۔

میرا مسئلہ یہ ہے کہ عشاء کی نماز پڑھ کر سوجاتی ہوں، ٹھیک ۳ بج کر ۴۰ منٹ پر آنکھ کھل جاتی ہے، اُٹھ کر وضو کرکے قرآن شریف پڑھتی ہوں، جب تک اَذان نہ ہو، پڑھتی رہتی ہوں۔ جنابِ والا! مجھے یہ بتائیں کہ کیا یہ صحیح ہے؟ میرے شوہر مدینے میں ہیں اور میں اکیلی رہتی ہوں، عرصہ تین ماہ سے میں رات کو بس اسی طرح جاگتی ہوں، وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی۔ برائے کرام آپ مجھے بتائیں کہ کیا یہ زوال کا وقت تو نہیں؟

سوال:۔

مجھے تہجد پڑھنے کا ٹائم بتائیں، کس وقت سے کس وقت تک ہوتا ہے؟ اور اس میں کیا پڑھتے ہیں؟

جواب:۔

یہ تو بہت ہی مبارک وقت ہوتا ہے، اس وقت اُٹھنے کی اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو توفیق نصیب فرمائیں۔

جواب:۔

آدھی رات کے بعد سے صبحِ صادق تک تہجد کا وقت ہوتا ہے،(۱) اس وقت جتنے نوافل بھی پڑھے جائیں،(۲) وہ تہجد کہلاتے ہیں، کم از کم چار، اور زیادہ سے زیادہ بارہ نفل سنت ہیں، اس سے زیادہ جتنے پڑھے جائیں، وہ اپنی خوشی ہے۔(۳)

  1. (۱) وندب صلٰوۃ اللیل ۔۔۔ خصوصًا آخرہ وھو السدس الخامس من أسداس اللیل وھو الوقت الذی ورد فیہ النزول الْإلٰھی۔ (حاشیۃ طحطاوی علٰی مراقی الفلاح ص:۲۱۷ فصل فی تحیۃ المسجد)۔
  2. (۲) وأقل ما ینبغی أن یتنفل باللیل ثمان ركعات كذا فی الجوھرۃ، وفضلھا لَا یحصر، قال تعالٰی: ﵟ فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٞ مَّآ أُخۡفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعۡيُنٖ ﵞ۔ (طحطاوی علی مراقی الفلاح ص:۲۱۷، فصل فی تحیۃ المسجد)۔
  3. (۳) ان ابن عباس أخبرہ أن بات عند میمونۃ وھی خالتہ ۔۔۔ قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلٰی شنّ معلّقۃ فتوضأ فأحسن الوضوء ۔۔۔ ثم صلّٰی ركعتین ثم ركعتین، ثم ركعتین، ثم ركعتین، ثم ركعتین، ثم ركعتین، ثم أوتر، ثم اضطجع حتّٰی جاءہ المؤذّن فقام فصلی ركعتین ثم خرج فصلی الصبح۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۳۵، باب ما جاء فی الوتر)۔ وفی روایۃ: إن صلٰوتہ باللیل خمس عشرۃ ركعۃ ۔۔۔ وفی أخریٰ سبع عشرۃ ۔۔۔ کان یصلی صلی اللہ علیہ وسلم سبع عشرۃ ركعۃ من اللیل ۔۔۔إلخ۔ (معارف السُّنن ج:۴ ص:۱۳۳ بیان أكثر صلاتہ باللیل وأقل ما ثبت)۔