اوقاتِنماز
ظہر، عصر کو اِکٹھے اور مغرب، عشاء کو اِکٹھے پڑھنا
سوال:۔
کیا ہم ظہر اور عصر اور مغرب وعشاء ملاکر پڑھ سکتے ہیں؟ کچھ علماء سے سنا ہے کہ مغرب کی نماز کے پندرہ منٹ بعد ہی عشاء کی نماز، اور ظہر کے ساتھ عصر کی نماز بھی پڑھی جاسکتی ہے، ان نمازوں کے اوقات کے بارے میں جواب درکار ہے کہ سورج کی حرکت کے تحت ان نمازوں کے کیا اوقات ہیں؟ حج کے دوران بھی ظہر وعصر ایک ساتھ ادا کی جاتی ہیں۔
جواب:۔
قرآنِ کریم میں ہے: ’’إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتۡ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ كِتَٰبٗا مَّوۡقُوتٗا‘‘ (النساء ١٠٣) یعنی بے شک نماز مؤمنوں کے ذمہ فرض کی گئی ہے مقرّرہ اوقات پر۔ کوئی شخص عشاء کی نماز صبحِ صادق سے پہلے پڑھ لے یا ظہر کی نماز چاشت کے وقت پڑھ لے، یا مغرب کی نماز عصر کے وقت پڑھ لے تو اس کی نماز نہیں ہوگی، اسی طرح عصر کی نماز کو ظہر کے وقت میں پڑھ لینا یا عشاء کی نماز کو مغرب کے وقت میں پڑھ لینا جبکہ عشاء کا وقت نہ ہوا، صحیح نہیں۔
البتہ احادیث میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع کرکے پڑھنے کی یہ صورت تجویز کی گئی ہے کہ ظہر کی نماز اس کے آخری وقت میں، اور عصر کی نماز اس کے اوّل وقت میں پڑھ لی جائے، دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت میں پڑھی گئیں، لیکن صورۃً جمع ہوگئیں۔ اسی طرح مغرب کی نماز اس کے آخری وقت میں، اور عشاء کی نماز اس کے اوّل وقت میں پڑھ لی جائے، اس صورت میں بھی دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت میں پڑھی گئیں، لیکن صورۃً جمع ہوگئیں۔ جب آدمی کو سفر کی جلدی ہو تو جمع بین الصلوٰتین کی یہ صورت تجویز کی گئی ہے۔(۱)
- (۱) ولَا جمع بین فرضین فی وقت بعذر سفر ومطر خلافًا للشافعی، وما رواہ محمول علی الجمع فعلًا لَا وقتًا، فإن جمع فسد لو قدم الفرض علٰی وقتہ وحرم لو عكس أی أخرہ عنہ ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار ج:۱ ص:۳۸۲)۔

