بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اوقاتِ‌نماز

دو وقتوں کی نمازیں اکٹھی ادا کرنا صحیح نہیں

سوال:۔

کیا بارش یا کسی اور عذر کی بنا پر دو نمازیں اکٹھی پڑھ سکتے ہیں؟

جواب:۔

سفر میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کرنے کی متعدّد احادیث مروی ہیں، اور ابنِ عباسؓ کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں بغیر سفر کے، بغیر خوف کے اور بغیر بارش کے اکٹھی پڑھیں، اس قسم کی تمام احادیث ہمارے نزدیک اس پر محمول ہیں کہ ظہر کی نماز کو مؤخر کرکے اس کے اخیر وقت میں پڑھا، اور عصر کی نماز کو اس کے اوّل وقت میں ادا کیا۔ اسی طرح مغرب اس کے آخری وقت میں پڑھی اور عشاء اس کے اوّل وقت میں، گویا دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت میں ادا کی گئیں، بارش کی وجہ سے دو نمازوں کا جمع کرنا کسی حدیث میں میری نظر سے نہیں گزرا، علامہ شوکانی نے بھی نیل الاوطار میں اس کی سختی سے تردید کی ہے۔(۱)

قال الحافظ أیضًا ویقوی ما ذكر من الجمع الصوری ان طرق الحدیث كلھا لیس فیھا تعرض لوقت الجمع فإما أن یحمل علٰی مطلقھا فیستلزم إخراج الصلاۃ عن وقتھا المحدود بغیر عذر وإما أن یحمل علٰی صفۃ مخصوصۃ لَا تستلزم الْإخراج ویجمع بھا بین مفترق الأحادیث فالجمع الصوری أولٰی واللہ أعلم ۔۔۔ فالأولٰی التعویل علٰی ما قدمنا من ان ذالك الجمع صوری بل القول بذالك متحتم لما سلف۔ (نیل الأوطار ج:۳ ص:۲۶۵-۲۶۸، باب جمع المقیم لمطرأ وغیرہ)۔

  1. (۱) وما روی من الحدیث فی خبر الآحاد فلا یقبل فی معارضۃ الدلیل المقطوع بہ مع أنہ غریب ورد فی حادثۃ تعم بھا البلویٰ ومثلہ غیر مقبول عندنا ثم ھو مؤوّل وتأویلہ انہ جمع بینھما فعلًا لَا وقتًا بأن أخّر الأولٰی منھما إلٰی آخر الوقت ثم أدی الأخریٰ فی أوّل الوقت ولَا واسطۃ بین الوقتین فوقعتا مجتمعتین فعلا كذا فعلہ ابن عمر رضی اللہ عنہ فی سفر وقال ھٰكذا کان بنا یفعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دل علیہ ما روی عن ابن عباس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم جمع من غیر مطر ولَا سفر وذالك لَا یجوز إلّا فعلًا ۔۔۔إلخ۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۱۷۲)۔ أیضًا: وعن الجمع بین الصلاتین فی وقت بعذر) وأما ما روی عن الجمع بینھما فی وقت واحد فمحمول علی الجمع فعلًا بأن صلّی الأولٰی فی آخر وقتھا والثانیہ فی أوّل وقتھا ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۱ ص:۲۶۷، كتاب الصلاۃ، قبیل باب الأذان)۔