بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اوقاتِ‌نماز

ہوائی سفر میں اوقات کے فرق کا نماز روزہ پر اثر

سوال:۔

ہمارے رشتہ داروں میں اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ ایک شخص پاکستان میں فجر، ظہر، عصر، مغرب کی نمازیں کراچی میں پڑھ لیتا ہے، اور مغرب کے بعد وہ ہوائی جہاز میں سوار ہوا اور ایک گھنٹہ یا دو یا پانچ یا دس گھنٹے میں ایسے ملک میں پہنچا جہاں ظہر کی نماز کا وقت تھا، اسی طرح روزہ کی کیا صورت ہوگی؟

جواب:۔

نماز تو جو پڑھ چکا ہے وہ ادا ہوگئی، دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں، اور روزہ وہ اس وقت کھولے گا جب اس ملک میں روزہ کھولنے کا وقت ہوگا۔(۱)

  1. (۱) فلو غربت ثم عادت ھل یعود الوقت بالظاھر نعم (قولہ الظاھر نعم) ۔۔۔ قلت: علٰی أن الشیخ اسماعیل رد ما بحثہ فی النھر تبعًا للشافعیۃ، بأن صلاۃ العصر بغیبوبۃ الشفق تصر قضاء ورجوعھا لَا یعیدھا أداء، وما فی الحدیث خصوصیۃ لعلیّ ۔۔۔ قلت ویلزم علی الأوّل بطلان صوم من أفطر قبل ردھا وبطلان صلاتہ المغرب لو سلمنا عود الوقت بعودھا للكل، واللہ تعالٰی أعلم۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۱ ص:۳۶۰، ۳۶۱، مطلب لو ردت الشمس بعد غروبھا)۔