بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اوقاتِ‌نماز

دورانِ سفر دو نمازوں کو اکٹھا ادا کرنا

سوال:۔

کیا دورانِ سفر وقت سے پہلے ایک نماز کے ساتھ دُوسرے وقت کی نماز ادا کرسکتے ہیں؟

جواب:۔

دو نمازوں کو جمع کرنا ہمارے نزدیک جائز نہیں، بلکہ ہر نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا لازم ہے، البتہ سفر کی ضرورت سے ایسا کیا جاسکتا ہے کہ پہلی نماز کو اس کے آخری وقت میں پڑھا جائے اور پچھلی نماز کو اس کے اوّل وقت میں پڑھ لیا جائے، اس طرح دونوں نمازیں ادا تو ہوں گی اپنے اپنے وقت میں، لیکن صورۃً جمع ہوجائیں گی۔(۱) اور اگر پہلی نماز کو اس قدر مؤخر کردیا کہ اس کا وقت نکل گیا تو نماز قضا ہوگئی اور اگر پچھلی نماز کو اس طرح مقدم کردیا کہ ابھی تک اس کا وقت ہی نہیں داخل ہوا تھا تو وہ نماز ادا ہی نہیں ہوگی اور اس کا دوبارہ پڑھنا ضروری ہوگا۔

  1. (۱) (قولہ وعن الجمع بین الصلاتین فی وقت بعذر) أی منع عن الجمع بینھما فی وقت واحد بسبب العذر للنصوص القطعیۃ بتعیین الأوقات ۔۔۔ وأما ما روی من الجمع بینھما فمحمول علی الجمع فعلًا، بأن صلّی الأولٰی فی آخر وقتھا والثانیۃ فی أول وقتھا ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۱ ص:۲۶۷، كتاب الصلاۃ، قبیل باب الأذان)۔