اوقاتِنماز
مغرب کی نماز کب تک ادا کی جاسکتی ہے؟
سوال:۔
ابھی پچھلے دنوں بس کے ذریعہ کراچی سے حیدرآباد جانا ہوا، اس دوران مغرب کا وقت ہوگیا، یعنی آفتاب غروب ہوگیا، میں کچھ دیر انتظار کرتا رہا کہ ہوسکتا ہے ڈرائیور خود ہی بس روکے کہ نماز پڑھ لوں، مگر جب میں نے دیکھا کہ بس نہیں روک رہا تو میں نے ڈرائیور سے کہا کہ بس روکو، نماز پڑھنا ہے۔ خیر اس نے نہایت نرمی کا مظاہرہ کیا اور بس روک دی۔ مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ اس انتظار میں تقریباً غروبِ آفتاب کو آدھا گھنٹہ گزر گیا، اور ہم نے نماز پڑھ لی، اب سارے مسافر اس بات پر بضد تھے کہ یہ نماز قضا ہوگئی، جہاں تک مجھے معلوم ہے مغرب کا وقت تقریباً ایک گھنٹہ اور پندرہ منٹ رہتا ہے، اور پھر وہ بھی ایسی حالت میں مسئلے کی تحقیق کرنی چاہی تو پتہ چلا کہ جب تک شفق کی سرخی رہے مغرب کا وقت رہتا ہے، اب اس زمانے میں جب ہم لوگ شفق کو ہی نہیں سمجھتے تو اس کی سرخی کو کیا سمجھیں گے؟ آپ برائے مہربانی اس بات کی وضاحت اخبار کے ذریعہ سے فرمادیں کہ غروبِ آفتاب کے کتنی دیر بعد تک مغرب کی نماز ادا کی جاسکتی ہے؟ میرا مطلب ہے کہ آدھ گھنٹے تک یا پونے گھنٹے تک یا ایک گھنٹے تک؟
جواب:۔
غروب کے بعد اُفق پر جو سرخی رہتی ہے، اسی کو شفق کہتے ہیں۔ جب تک اُفق پر سرخی موجود ہو (اور یہ وقت تقریباً سوا گھنٹہ تو ہوتا ہی ہے، کم و بیش بھی ہوسکتا ہے) تب تک مغرب کی نماز ہوسکتی ہے۔ عوام میں جو مشہور ہے کہ ذرا سا اندھیرا ہوجائے تو کہتے ہیں کہ مغرب کا وقت ختم ہوگیا، اب عشاء کے ساتھ پڑھ لینا، یہ بہت ہی غلط ہے، مغرب کی نماز میں قصداً تأخیر کرنا مکروہ ہے،(۱) لیکن اگر کسی مجبوری سے تأخیر ہوجائے تو شفق غروب ہونے سے پہلے ضرور پڑھ لینی چاہئے،(۲) ورنہ نماز قضا ہوجائے گی، اور نماز کا قصداً قضا کردینا گناہِ کبیرہ ہے۔(۳)
- (۱) ویستحب تعجیل المغرب لأن تأخیرھا مكروہ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۸۳، كتاب الصلاۃ)۔
- (۲) (قولہ والمغرب منہ إلٰی غروب الشفق) أی وقت المغرب من غروب الشمس إلٰی غروب الشفق ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۱ ص:۲۵۸، كتاب الصلاۃ، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
- (۳) قال تعالٰی: ﵟ فَخَلَفَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ أَضَاعُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّبَعُواْ ٱلشَّهَوَٰتِۖ فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا ٥٩ إِلَّا مَن تَابَ ﵞ، قال ابن مسعود: لیس معنی أضاعوھا تركوھا بالكلیۃ ولٰـكن أخّروھا عن أوقاتھا۔ (الزواجر عن إقتراف الكبائر ج:۱ ص:۱۳۳)۔

