اوقاتِنماز
عشاء کی نماز مغرب کے ایک آدھ گھنٹے بعد نہیں ہوتی
سوال:۔
عشاء کی نماز بحالتِ مجبوری اگر کوئی کام ہو تو مغرب کے ایک یا آدھ گھنٹے بعد اَدا کی جاسکتی ہے؟ کوئی حرج تو نہیں؟
جواب:۔
مغرب کے ایک گھنٹہ یا آدھ گھنٹہ بعد عشاء کا وقت نہیں ہوتا، اور وقت سے پہلے نماز جائز نہیں، یعنی نماز ادا نہ ہوگی۔ غروب کے بعد مغرب کی جانب جب تک سرخی باقی ہو تب تک مغرب کا وقت ہے، اس میں عشاء کی نماز صحیح نہیں ہوگی، اور جب سرخی ختم ہوجائے لیکن اُفق مغرب میں سفیدی باقی ہو تو اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اس وقت بھی عشاء کی نماز صحیح نہیں، بلکہ سفیدی کے غائب ہونے کا انتظار ضروری ہے، اور صاحبین (اِمام ابویوسفؒ اور اِمام محمدؒ) کے نزدیک اُفق کی سرخی ختم ہوجانے کے بعد عشاء کا وقت شروع ہوجاتا ہے، اس لئے احتیاط کی بات تو یہ ہے کہ عشاء کی نماز سفیدی ختم ہونے کے بعد پڑھی جائے، تاہم سرخی ختم ہونے کے بعد بھی صاحبینؒ کے قول پر گنجائش ہے۔(۱)
- (۱) ووقت المغرب منہ (أی من غروب الشمس) إلٰی غیبوبۃ الشفق وھو الحمرۃ عندھما وبہ یفتٰی ھٰكذا فی شرح الوقایۃ، وعند أبی حنیفۃ الشفق ھو البیاض الذی یلی الحمرۃ ھٰكذا فی القدوری۔ وقولھما أوسع للناس، وقول أبی حنیفۃ رحمہ اللہ أحوَط، لأن الأصل فی باب الصلاۃ أن لَا یثبت فیھا ركن ولَا شرط إلّا بما فیہ یقین كذا فی النھایۃ ناقلًا عن الأسرار ومبسوط شیخ الْإسلام۔ (فتاویٰ عالمگیریۃ ج:۱ ص:۵۱، كتاب الصلاۃ، الباب الأوّل فی المواقیت وما یتصل بھا)۔

