اوقاتِنماز
غروب کے وقت عصر کی نماز
سوال:۔
ایک شخص نے عصر کی نماز کسی خاص وجہ سے وقت پر نہ پڑھی اور سورج غروب ہو رہا ہے (حالانکہ غروبِ آفتاب کے وقت سجدہ ناجائز ہے) اسی دن کی عصر کی نماز جائز ہے یا کہ نہیں؟ جبکہ یہ شخص صاحبِ ترتیب ہے۔ ایک کتاب میں لکھا ہے کہ اسی دن کی سورج غروب ہونے سے پہلے ایک رکعت پڑھ لی اور سورج غروب ہوگیا تو نماز ہوجاتی ہے، ہمیں اس اُلجھن سے نجات دلائیں۔
جواب:۔
اسی دن کی عصر کی نماز جائز ہے، نماز ادا ہوجائے گی خواہ اس دوران سورج غروب ہوجائے، مگر تأخیر کرنے کی وجہ سے وہ سخت گناہگار ہوگا۔ حدیث میں ہے:
’’تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ، حَتَّى إِذَا أَصْفَرَّتْ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا، لَا يَذْكُرُ اللّٰهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا۔‘‘ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ ص:۶۰)
ترجمہ:۔’’یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا سورج کا انتظار کرتا رہا، یہاں تک کہ جب سورج زرد ہوجائے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجائے تو یہ اُٹھ کر چار ٹھونکے لگالے، اور اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے مگر کم۔‘‘
اور یہ بھی یاد رہے کہ اگر کبھی وقت تنگ ہوجائے تب بھی نماز فوراً پڑھ لینی چاہئے، یہ نہیں خیال کرنا چاہئے کہ اب تو وقت بہت کم ہے، اب قضا کرکے اگلی نماز کے ساتھ ہی پڑھ لیں گے، کیونکہ نماز کا قضا کردینا بہت بڑا وبال ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
’’اَلَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۶۰، بروایت بخاری و مسلم)
ترجمہ:۔’’جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوگئی، گویا اس کا گھربار سب کچھ ہلاک ہوگیا۔‘‘
ایک اور حدیث میں ہے:
’’مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۶۰، بروایت بخاری)
ترجمہ:۔’’جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کا عمل اکارت ہوگیا۔‘‘
بہت سے لوگ اس مسئلے میں کوتاہی کرتے ہیں، اگر کسی وجہ سے نماز میں تأخیر ہوجائے تو اس کو قضا کردیتے ہیں، خصوصاً مغرب کی نماز میں ذرا اندھیرا ہوجائے تو اس کو قضا کرکے عشاء کی نماز کے ساتھ پڑھتے ہیں، یہ بڑی سنگین غلطی اور کوتاہی ہے۔

