اوقاتِنماز
سایہ ایک مثل ہونے پر عصر کی نماز پڑھنا
سوال:۔
عصر کی نماز حنفیوں کے نزدیک ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوجائے تو پڑھنی چاہئے، اگر ایک آدمی اپنے ملک میں یا کسی دُوسرے ملک میں ایسے اِمام کے پیچھے نماز باجماعت پڑھتا ہے جو ایک مثل کے بعد پڑھا رہا ہے، تو کیا اس کے پیچھے نماز باجماعت پڑھ لے یا جماعت چھوڑ دے اور جب دو مثل ہوجائے تو تنہا نماز ادا کرے؟ اس صورت میں ترکِ جماعت کے گناہ کا مرتکب تو نہیں ہوگا؟
جواب:۔
حنفیہ کے یہاں بھی دو قول ہیں، ایک قول یہ ہے کہ مثل دوم میں عصر کی نماز صحیح ہے،(۱) لہٰذا اگر کسی جگہ عصر کی نماز دومثل سے پہلے ہوتی ہو وہاں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہئے، دُوسری مثل ختم ہونے کے انتظار میں جماعت کا ترک کرنا جائز نہیں۔(۲)
- (۱) وقت الظھر إذا زالت الشمس ۔۔۔ وآخر وقتھا عند أبی حنیفۃ إذا صار ظل كل شیء مثلیہ سوی فیء الزوال وقالَا إذا صار الظل مثلہ وھو روایۃ عن أبی حنیفۃ رحمہ اللہ ۔۔۔ وأوّل وقت العصر إذا خرج وقت الظھر علی القولین۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۸۱، كتاب الصلاۃ)۔
- (۲) الجماعۃ سُنَّۃ مؤكدۃ لقولہ علیہ السلام: الجماعۃ من سُنن الھدی لَا یتخلف عنھا إلّا منافق۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۲۱)۔

