بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اوقاتِ‌نماز

نمازِ ظہر ڈیڑھ بجے پڑھنی چاہئے یا دو، اَڑھائی بجے؟

سوال:۔

جو شخص جماعت کی نماز چھوڑ دے اور کہے کہ یہ اولیٰ وقت میں ہے، اور دیر سے نماز پڑھے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ہماری مسجد میں ظہر ڈیڑھ بجے ہوتی ہے، سارے مقتدی اسی وقت نماز اَدا کرتے ہیں، جبکہ ایک صاحب دو یا ڈھائی بجے آکر پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اولیٰ وقت یہی ہے، اس بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟

جواب:۔

نماز صحیح وقت پر پڑھنی چاہئے، عام طور پر ڈیڑھ بجے ظہر پڑھی جاتی ہے، گرمیوں کے موسم میں کچھ تأخیر کرکے پڑھ لینا چاہئے، واللہ اعلم!(۱)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا اشتد الحر فأبردوا عن الصلٰوۃ، فإن شدۃ الحر من فیح جھنم۔ (ترمذی ج:۱ ص:۲۳، باب ما جاء فی تأخیر الظھر فی شدۃ الحر، طبع دھلی)۔