اوقاتِنماز
سایۂ اصلی سے کیا مراد ہے؟
سوال:۔
فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین کی ایک عبارت ہے: ’’بُلُوْغُ ظِلِّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ سِوَى فَيْءِ الزَّوَالِ‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ اور اس اِستثناء سے کیا مراد ہے؟
جواب:۔
عین نصف النہار کے وقت جو کسی چیز کا سایہ ہوتا ہے، یہ سایۂ اصلی کہلاتا ہے، مثلِ اوّل اور مثلِ دوم کا حساب کرتے ہوئے سایۂ اصلی کو مستثنیٰ کیا جائے گا، مثلاً: عین نصف النہار کے وقت کسی چیز کا سایۂ اصلی ایک قدم تھا، تو مثلِ اوّل ختم ہونے کے لئے کسی چیز کا سایہ ایک مثل مع ایک قدم کے شمار ہوگا۔(۱)
- (۱) وطریق معرفۃ زوال الشمس وفیٔ الزوال أن تغرز خشبۃ مستویۃ فی أرض مستویۃ فما دام الظل فی الْإنتقاص فالشمس فی حد الْإرتفاع وإذا أخذ الظل فی الْإزدیاد علم أن الشمس قد زالت فاجعل علٰی رأس الظل علامۃ فمن موضع العلامۃ إلی الخشبۃ یكون فیء الزوال فإذا ازداد علٰی ذالك وصارت الزیادۃ مثلی ظل أصل العود سوی فیء الزوال ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۱، كتاب الصلاۃ، الباب الأوّل فی المواقیت وما یتصل بھا)۔

