اوقاتِنماز
ظہر کا وقت ایک بیس ہی پر کیوں؟
سوال:۔
ہمارے محلے میں ایک مسجد ہے، جس میں ظہر کی نماز گزشتہ دس سال سے ایک بج کر بیس منٹ پر ہوتی ہے، کیا یہ ظہر کا وقت ٹھیک ہے یا اس میں ردّ و بدل کرنا چاہئے؟
جواب:۔
زوال کے بعد ظہر کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔(۱) سردیوں کے موسم میں ظہر جلدی پڑھنا اور گرمیوں میں ذرا تأخیر سے پڑھنا افضل ہے۔(۲) اگر آپ کی مسجد میں نمازیوں کی مصلحت سے نماز ایک بیس پر ہوتی ہے تو کوئی مضائقہ نہیں، اور اگر گرمیوں کے موسم میں اس سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے تو تأخیر سے پڑھنی چاہئے۔
- (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن الصلاۃ أولًا وآخرًا، وإن أوّل وقت صلاۃ الظھر حین تزول الشمس، وآخر وقتھا حین یدخل وقت العصر۔ (جامع الترمذی، ابواب الصلاۃ ج:۱ ص:۳۹ طبع سعید)۔ أیضًا: ووقت الظھر من زوالہ: أی میل ذکاء عن كبد السماء إلٰی بلوغ الظل مثلیہ وعنہ مثلہ ۔۔۔ سوی فیٔ الزوال۔ (الدرالمختار، كتاب الصلاۃ ج:۱ ص: ۴۲۵، طبع رشیدیۃ)۔
- (۲) عن أبی ذر رضی اللہ عنہ قال: أذّن مؤذّن النبی صلی اللہ علیہ وسلم الظھر، فقال: أبرد! أبرد! أو قال: إنتظر! إنتظر! وقال شدۃ الحر من فیح جھنم، فإذا اشتد الحر فأبردوا عن الصلاۃ، حتی رأتنا فیء التلول۔ (صحیح بخاری، كتاب مواقیت الصلاۃ ج:۱ ص:۷۶ طبع قدیمی)۔

