اوقاتِنماز
مکہ مکرّمہ میں اور جمعہ کے دن بھی زوال کا وقت ہوتا ہے
سوال:۔
کیا یہ صحیح ہے کہ خانۂ کعبہ میں زوال کا وقت کبھی نہیں آتا اور عبادت کبھی نہیں رُکتی؟ اور عام جگہوں پر جمعہ کو زوال کا وقت نہیں ہوتا ہے؟
جواب:۔
زوال کے وقت (اور اسی طرح دُوسرے مکروہ اوقات میں) نماز ممنوع ہے، خواہ مکہ مکرّمہ میں ہو یا غیرِ مکہ میں، اور جمعہ کا دن ہو یا کوئی اور۔ اِمام شافعیؒ اور دیگر بعض ائمہ کے نزدیک تحیۃ الوضوء اور تحیۃ المسجد ہر وقت جائز ہے، اسی طرح جمعہ کے دن زوال کے وقت دوگانہ جائز ہے۔(۱) ان حضرات کی دیکھا دیکھی ہمارے لوگ بھی مکروہ اوقات میں نماز شروع کردیتے ہیں، یہ نتیجہ ہے شرعی مسائل سے ناواقفی کا۔
- (۱) ثلاث ساعات لَا تجوز فیھا المكتوبۃ ولَا صلاۃ الجنازۃ ولَا سجدۃ التلاوۃ إذ طلعت الشمس حتّٰی ترتفع وعند الْإنتصاف إلٰی أن تزول وعند إحمرارھا إلٰی أن تغیب ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۲)۔ أیضًا: فإن حدیث النھی صحیح رواہ مسلم وغیرہ فیقدم بصحتہ، وإتفاق الأئمۃ علی العمل وكونہ حاظرًا، ولذا منع علماؤنا عن سُنّۃ الوضوء وتحیۃ المسجد وركعتی الطواف ونحو ذالك فإن الحاظر مقدم علی المبیح۔ (تنبیہ) علم مما قررناہ المنع عندنا وإن لم أرہ مما ذكرہ الشافعیۃ من إباحۃ الصلاۃ فی الأوقات المكروھۃ فی حرم مكۃ إستدلَالًا بالحدیث الصحیح: یا بنی عبد مناف! لَا تمنعوا أحدا طاف وإن جوزوا نفس الطواف بھٰذا البیت وصلی أیۃ ساعۃ شاء من لیل أو نھار فھو مقید عندنا بغیر أوقات الکراھۃ، لما علمتہ من منع علمائنا عن ركعتی الطواف فیھا وإن جوزوا نفس الطواف فیھا ۔۔۔ وقد قال أصحابنا إن الصلاۃ فی ھٰذہ الأوقات ممنوع منھا بمكۃ وغیرھا اھـ ورأیت فی البدائع أیضًا ما نصہ: ما ورد من النھی إلّا بمكۃ شاذ لَا یقبل فی معارضۃ المشھور، وكذا روایۃ إستثناء یوم الجمعۃ غریب فلا یجوز تخصیص المشھور بہ اھـ۔ (ردالمحتار ج:۱ ص:۳۷۲)۔

