اوقاتِنماز
رات کے بارہ بجے زوال کا تصوّر غلط ہے
سوال:۔
سندھ کے اکثر علاقوں میں لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ جس طرح دوپہر کو بارہ بجے زوال کا وقت ہوتا ہے، اسی طرح رات کو بارہ بجے بھی زوال کا وقت ہوتا ہے۔ اگر کہیں کوئی میّت ہوجائے تو نہ صرف یہ کہ زوال کے وقت نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جاتی بلکہ یوں بھی ہوتا ہے کہ میّت کو دفنانے کے لئے قبرستان پہنچے، وہاں پہنچتے پہنچتے دن کے یا رات کے بارہ بج گئے تو مردے کو دفنایا بھی نہیں جاتا، وہیں بیٹھ کر زوال کا وقت گزرنے کا انتظار کیا جاتا ہے، اور پھر بعد میں مردے کو دفن کیا جاتا ہے۔ از راہ کرم یہ بتائیے کہ کیا رات کو بارہ بجے بھی زوال کا وقت ہوتا ہے؟ اور زوال کے وقت کن کن کاموں کے کرنے کی ممانعت ہے؟
جواب:۔
زوال کا وقت دن کو ہوتا ہے، رات کو نہیں۔(۱) رات کے کسی حصے میں نماز اور سجدہ کی ممانعت نہیں، البتہ عشاء کی نماز آدھی رات تک مؤخر کردینا مکروہ ہے۔(۲) رات کے بارہ بجے زوال کا تصوّر غلط ہے اور دن میں بھی زوال کا وقت بارہ بجے سمجھنا غلط ہے، کیونکہ مختلف شہروں اور مختلف موسموں کے لحاظ سے زوال کا وقت مختلف ہوتا ہے اور بدلتا رہتا ہے۔
- (۱) زوال الشمس: ھو میلھا عن كبد السماء أی وسطھا بحسب ما یظھر لنا إلٰی جانب المغرب۔ (قواعد الفقہ ص:۳۱۵، حرف الزاء، طبع صدف پبلشرز کراچی)۔
- (۲) والتأخیر إلٰی نصف اللیل مباح ۔۔۔ فیثبت الْإباحۃ إلی النصف وإلی النصف الأخیر مكروہ لما فیہ من تقلیل الجماعۃ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۸۴، كتاب الصلاۃ)۔

