بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اوقاتِ‌نماز

زوال کے وقت کی تعریف

سوال:۔

نماز پڑھنے کا مکروہ وقت یعنی زوال کے بارے میں مختلف لوگوں کے مختلف خیالات ہیں۔

۱:۔ زوال صرف ایک یا دو منٹ کے لئے ہوتا ہے۔

۲:۔ زوال بیس یا پچّیس منٹ کے لئے ہوتا ہے۔

۳:۔ جمعہ کے دن زوال نہیں ہوتا۔

۴:۔ زوال کے لئے احتیاطاً آٹھ دس منٹ کافی ہیں۔

جواب:۔

اوقات کے نقشوں میں جو زوال کا وقت لکھا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد نماز جائز ہے، زوال میں تو زیادہ منٹ نہیں لگتے، لیکن احتیاطاً نصف النہار سے ۵منٹ قبل اور ۵منٹ بعد نماز میں توقف کرنا چاہئے۔ اِمام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جمعہ کے دن استوا کے وقت نماز دُرست ہے، اور اِمام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مکروہ ہے، حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کا قول دلیل کے اعتبار سے زیادہ قوی اور احتیاط پر مبنی ہے، اس لئے عمل اسی پر ہے۔(۱)

وذھب الشافعی إلٰی أن وقت الزوال مكروہ إلّا یوم الجمعۃ، وذھب الجمھور إلٰی أنہ مكروہ مطلقًا۔ (إعلاء السُّنن ج:۲ ص:۵۱، ردالمحتار ج:۱ ص:۳۷۲، مطلب یشترط العلم بدخول الوقت)۔

  1. (۱)وأما الكلام علی النھی عن الصلاۃ فی نصف النھار فمذھبنا إطلاق النھی للحدیث المذكور فی المتن وأما ما ورد من إستثناء یوم الجمعۃ فقد رواہ الشافعی رحمہ اللہ قال ۔۔۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھٰی عن الصلاۃ نصف النھار حتّٰی تزول الشمس إلّا یوم الجمعۃ۔ (مسند الشافعی ص:۳۵) وبہ قال الشافعی وأبو یوسف رحمھما اللہ من أئمتنا۔ (إعلاء السُّنن ج:۲ ص:۵۱، کراھۃ الصلاۃ عند الْإستواء)۔