اوقاتِنماز
نصف النہار سے کیا مراد ہے؟
سوال:۔
نماز کے اوقاتِ مکروہہ میں ایک وقت استوا بھی ہے، اس وقت میں نماز سے منع کیا گیا ہے، علماء اس وقت کے متعلق فرماتے ہیں کہ زوال کا جو وقت نقشوں میں دیا گیا ہے اس سے پانچ منٹ قبل اور پانچ منٹ بعد نماز منع ہے، لیکن شرعی دائمی جنتری (مرتبہ قاری شریف احمد صاحب مدظلہ العالی) میں اس حدیث کی تشریح میں جو وقت متعین کیا گیا ہے وہ تقریباً ۴۰منٹ ہوتا ہے، اس کی وضاحت میں قاری صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ طلوعِ صبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک جتنا وقت ہے اس کے برابر دو حصے کرلیں، پہلے حصے کے ختم پر ابتدا نصف النہار شرعی ہے، ایسے ہی طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک جتنا وقت ہے، اس کے برابر دو حصے کرلیں، پہلے حصے کے ختم پر ابتدا نصف النہار عرفی یا حقیقی ہے اور اس پر زوالِ آفتاب کا وقت ختم ہوکر ظہر کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔
اپنی اس تحقیق پر دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ (جس کی اصل قاری صاحب کے پاس موجود ہے) بھی تائید میں پیش کیا گیا ہے، جس کا خلاصہ درج ذیل ہے: ’’اس عبارت سے معلوم ہوا کہ ضحوۃ کبریٰ اور زوالِ شمس کے درمیان کچھ درجوں کا فاصلہ ہوتا ہے، دونوں (یعنی ضحوۃ کبریٰ اور زوالِ شمس) ایک نہیں ہیں، نصف النہار شرعی کا قطر اس کی فجر کے حصے کے نصف کے برابر ہے، صبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک جتنے گھنٹے ہوتے ہیں، اس کا نصف نہار شرعی کا آدھا ہے، وہ زوالِ آفتاب سے قبل کا وقت ہے، اس لئے جب مابین ان دو وقتوں کے نماز پڑھی جائے گی تو اس میں اختلاف ہے، اس لئے کہ زوال کے وقت نماز پڑھنے سے ممانعت آئی ہے، اس وقت سے کون سا وقت مراد ہے؟ عین وقتِ زوال یا ضحوۃ کبریٰ کے بعد سے زوال تک مراد ہے؟ شامی نے اس پر بحث کی ہے، اس کے بعد لکھتے ہیں: نصف النہار تو حدیث میں وارد ہے، اور چونکہ حدیث میں الی الزوال کی قید لگی ہے، اس بنا پر نصف النہار سے ضحوۃ کبریٰ مراد لی گئی ہے، اس کو نصف نہار شرعی کہتے ہیں، جو صبحِ صادق سے شروع ہوتا ہے، یہی حدیث اصل ہے، بے بنیاد شے نہیں ہے۔ اسی طرح عمدۃ الفقہ کتاب الصوم کے صفحہ:۲ پر نیت کے ضمن میں نصف النہار عرفی کو وقتِ استوا بتلایا گیا ہے، اور نصف النہار شرعی کو ضحوۃ کبریٰ، اس طرح تو نصف النہار شرعی اور عرفی میں کافی وقت معلوم ہوتا ہے جو کم و بیش ۴۵ منٹ بنتا ہے، لہٰذا حق و صواب سے آگاہ فرمایا جائے کہ نصف النہار عرفی کے پانچ منٹ قبل اور پانچ منٹ بعد نماز منع ہے یا نصف النہار شرعی اور عرفی کے درمیان کا وقت؟ اسی ضمن میں ایک بات یہ بھی بتلائی جائے کہ جمعہ کے دن زوال کا وقت نہیں ہوتا، اس میں حق و صواب کیا ہے؟ نوافل، صلوٰۃ التسبیح وغیرہ کتنے وقت میں نہ پڑھی جائے؟ بعض علماء جمعہ کے دن عین زوال کے وقت نوافل کا اہتمام فرماتے دیکھے گئے ہیں۔
’’سوال(۷۳)۔ چاشت وغیرہ کی نوافل ۱۲بجے پڑھنی دُرست ہے یا نہیں؟ اور جنتری اسلامیہ میں زوال یا قضا نماز کا وقت ۱۲ بج کر ۲۴ منٹ پر لکھا ہے۔
جواب:۔
نصف النہار شرعی سے یا ضحوۃ کبریٰ سے زوالِ آفتاب تک نماز ممنوع ہونے کا قول علامہ شامیؒ نے قہستانی کے حوالے سے ائمہ خوارزم کی طرف منسوب کیا ہے،(۱) مگر اَحادیثِ طیبہ اور اَکابرِ اُمت کے ارشاد میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قول معتمد نہیں، صحیح اور معتمد قول یہی ہے کہ نصف النہار عرفی کے وقت نماز ممنوع ہے، جبکہ سورج ٹھیک خطِ استوا سے گزرتا ہے، اور یہ بہت مختصر سا وقت ہے، پس نماز کے نقشوں میں زوال کا جو وقت درج ہوتا ہے اس سے پانچ منٹ آگے پیچھے میں توقف کرلینا کافی ہے، یہاں دارالعلوم دیوبند کے مفتیٔ اوّل حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمن عثمانی ؒ کا فتویٰ نقل کرتا ہوں:
الجواب:۔ زوال کے وقت نوافل وغیرہ کچھ نہ پڑھنی چاہئے اور نہ ایسے وقت نوافل پڑھنی چاہئے کہ زوال کا وقت درمیان نماز میں ہوجائے، پس جس گھڑی کے مطابق زوال کا وقت ۱۲ بج کر ۲۴ منٹ پر ہے، اس کے مطابق اگر ۱۲بجے نفل یا قضا نماز اس طرح پڑھے کہ زوال سے پہلے پہلے اس کو ختم کردے تو یہ جائز ہے، مگر جب زوال کا وقت قریب آجائے اس وقت کوئی نماز شروع نہ کرے تاکہ ایسا نہ ہو کہ درمیان نماز میں زوال کسی وقت ہوجائے، فقط۔‘‘ (فتاویٰ دارالعلوم مکمل ومدلل ج:۲ ص:۶۹)
حضرتِ اقدس مفتی صاحبؒ کے اس فتویٰ سے معلوم ہوا کہ نماز کے ممنوع ہونے میں ضحوۃ کبریٰ یا نصف النہار شرعی کا کوئی اعتبار نہیں، بلکہ عین وقتِ زوال کا اعتبار ہے، جس کو وقتِ استویٰ یا نصف النہار حقیقی کہتے ہیں۔
جمعہ کے دن نصف النہار کے وقت نماز پڑھنا اِمام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور اِمام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اسی طرح ناجائز ہے جس طرح عام دنوں میں، البتہ اِمام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت میں اس کی اجازت نقل کی گئی ہے۔(۲) جو حضرات جمعہ کے دن نصف النہار کے وقت نماز پڑھتے ہیں، غالباً وہ اِمام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کی روایت پر عمل کرتے ہوں گے، لیکن فقہِ حنفی میں راجح اور معتمد اِمام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور اِمام محمد رحمۃ اللہ علیہ ہی کا قول ہے، اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ جمعہ کے دن بھی استوا کے وقت نماز پڑھنے میں توقف کیا جائے،(۳) واللہ اعلم بالصواب!
- (۱) وعزا فی القھستانی القول بأن المراد إنتصاف النھار العرفی إلٰی أئمۃ ما وراء النھر، وبأن المراد إنتصاف النھار الشرعی وھو الضحوۃ الكبریٰ إلی الزوال إلٰی أئمۃ خوارزم۔ (ردالمحتار ج:۱ ص:۳۷۱، مطلب یشترط العلم بدخول الوقت)۔
- (۲) وأما الكلام علی النھی عن الصلاۃ فی نصف النھار فمذھبنا إطلاق النھی للحدیث المذكور فی المتن وأما ما ورد من إستثناء یوم الجمعۃ فقد رواہ الشافعی رحمہ اللہ قال ۔۔۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھٰی عن الصلاۃ نصف النھار حتّٰی تزول الشمس إلّا یوم الجمعۃ۔ (مسند الشافعی ص:۳۵) وبہ قال الشافعی وأبو یوسف رحمھما اللہ من أئمتنا۔ (إعلاء السُّنن ج:۲ ص:۵۱، کراھۃ الصلاۃ عند الْإستواء)۔
- (۳) وذھب الشافعی إلٰی أن وقت الزوال مكروہ إلّا یوم الجمعۃ، وذھب الجمھور إلٰی أنہ مكروہ مطلقًا۔ (إعلاء السُّنن ج:۲ ص:۵۱، ردالمحتار ج:۱ ص:۳۷۲، مطلب یشترط العلم بدخول الوقت)۔

