بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اوقاتِ‌نماز

رمضان المبارک میں فجر کی نماز

سوال:۔

حیدرآباد میں سحری تقریباً ۴بجے ختم ہوتی ہے، یہاں پر ایک مسجد میں ساڑھے چار بجے جماعت ہوتی ہے، مگر کچھ لوگوں کا اعتراض ہے کہ اس وقت چونکہ اندھیرا ہوتا ہے اس لئے اس وقت نماز جائز نہیں، مگر اس مسجد والے کہتے ہیں کہ نماز چونکہ صحیح حالت میں پڑھنی چاہئے اور نماز تھوڑا اُجالا پھیلنے تک یا تو کچھ لوگ سوچکے ہوتے ہیں یا اُونگھ رہے ہوتے ہیں، اس لئے جلدی نماز صحیح ہے۔

جواب:۔

صبحِ صادق ہونے پر سحر کا وقت ختم ہوجاتا ہے، اور نمازِ فجر کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔(۱) رمضان مبارک میں نمازیوں کی رعایت کے لئے صبح کی نماز عموماً جلدی ہوتی ہے۔(۲) بہرحال صبحِ صادق کے بعد فجر کی نماز صحیح ہے، اُجالے کا پھیل جانا نماز صحیح ہونے کے لئے شرط نہیں۔

  1. (۱) وقت الفجر من الصبح الصادق إلٰی طلوع الشمس لحدیث امامۃ أتانی جبریل عند البیت ۔۔۔ ثم صلی الفجر حین بزق الفجر وحرم الطعام علی الصائم ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۱ ص:۲۵۷، كتاب الصلاۃ)۔
  2. (۲) فلو إجتمع الناس الیوم أیضًا فی التغلیس لقلنا بہ أیضًا، كما فی المبسوط السرخسی فی باب التیمم انہ یستحب التغلیس فی الفجر والتعجیل فی الظھر إذا إجتمع الناس، قال رحمہ اللہ تعالٰی بعد أسطر ۔۔۔ ولعل ھٰذا التغلیس فی رمضان خاصۃ وھٰكذا ینبغی عندنا إذا إجتمع الناس وعلیہ العمل فی دارالعلوم دیوبند من عھد الأکابر۔ (فیض الباری علٰی صحیح البخاری، كتاب الصلٰوۃ، باب وقت الفجر ج:۲ ص:۱۳۵، ۱۳۶، طبع خضر راہ بك ڈپو دیوبند ھند)۔