بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اوقاتِ‌نماز

نمازِ اِشراق کا وقت کب ہوتا ہے؟

سوال:۔

ہماری مسجد میں اکثر اِشراق کی نماز پر جھگڑا ہوتا ہے، بعض حضرات سورج نکلنے کے پانچ منٹ بعد نماز پڑھ لیتے ہیں، جبکہ بعض اعتراض کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پورا سورج ۱۵ منٹ میں نکلتا ہے، اس لئے پورے ۱۵منٹ بعد نماز کا وقت ہوتا ہے، آپ فرمائیں کہ اِشراق کی نماز کا وقت سورج نکلنے کے کتنی دیر بعد شروع ہوتا ہے اور کب تک رہتا ہے؟

جواب:۔

سورج نکلنے کے بعد جب تک دُھوپ زرد رہے، نماز مکروہ ہے، اور دُھوپ کی زردی کا وقت مختلف موسموں میں کم و بیش ہوسکتا ہے، عام موسموں میں ۱۵، ۲۰ منٹ میں ختم ہوتی ہے، اس لئے اتنا وقفہ ضروری ہے، جو لوگ پانچ منٹ بعد نماز شروع کردیتے ہیں، وہ غلط کرتے ہیں۔ البتہ بعض موسموں میں دس منٹ بعد زردی ختم ہوجاتی ہے، پس اصل مدار زردی کے ختم ہونے پر ہے۔(۱)

  1. (۱) وكرہ تحریمًا مع شروق قولہ مع شروق وما دامت العین لَا تحار فیھا، فھی فی حكم الشروق، كما تقدم فی الغروب ان الأصح كما فی البحر أقول: ینبغی تصحیح ما نقلوہ عن الأصل للإمام محمد من أنہ ما لم ترتفع الشمس قدر رمح فھی فی حكم الطلوع، لأن أصحاب المتون مشوا علیہ فی صلٰوۃ العید حیث جعلوا أوّل وقتھا من الْإرتفاع، ولذا جزم بہ ھنا فی الفیض ونور الْإیضاح۔ (ردالمحتار، كتاب الصلٰوۃ ج:۱ ص:۳۷۱، طبع ایچ ایم سعید)۔ وذكر فی الأصل ما لم ترتفع الشمس قدر رمح فھی فی حكم الطلوع واختار الفضلی ان الْإنسان ما دام یقدر علی النظر إلٰی قرص الشمس فی الطلوع فلا تحل الصلاۃ فإذا عجز عن النظر حلت وھو مناسب لتفسیر التغیر المصطلح كما قدمناہ۔ (البحر الرائق ج:۱ ص:۲۶۳)۔