بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اوقاتِ‌نماز

طلوعِ آفتاب سے قبل اور بعد کتنا وقت مکروہ ہے؟

سوال:۔

فجر کی نماز کے بعد جو ۲۰منٹ مکروہ ہوتے ہیں، وہ کون سے ہیں؟ سورج کی پہلی شعاع نکلنے سے پہلے کے ۲۰منٹ یا جب پہلی شعاع نکل آئے اس وقت سے پورا سورج نکلنے تک ۲۰ منٹ؟ مثال کے طور پر محکمہ موسمیات بتاتا ہے کہ کل چھ بجے سورج نکلے گا، تو مکروہ ۲۰منٹ کون سے ہوں گے، ۵بج کر ۴۰منٹ سے ۶بجے تک درمیان کے بیس منٹ یا ۶بجے سے ۶بج کر ۲۰منٹ تک مکروہ ٹائم ہوگا؟ براہ مہربانی اس سوال کا جواب محکمہ موسمیات کے ٹائم کے حوالے سے ہی دیں کہ صبحِ صادق اور صبحِ کاذب کے حوالے سے جواب واضح طور پر سمجھ میں نہیں آتا، اور پھر یہ تردّد بھی رہتا ہے کہ ہوسکتا ہے ہمارا اندازہ غلط ہو، کیونکہ محکمہ موسمیات روزانہ سورج نکلنے کا ٹائم بتاتا ہے، اس لئے اگر آپ یہ جواب دے دیں کہ اس کے بتائے ہوئے ٹائم کے فوراً پہلے کے ۲۰منٹ مکروہ ہوتے ہیں یا فوراً بعد کے، تو میرا خیال ہے ہماری ناقص عقل میں بہتر طور پر آجائے گا۔

جواب:۔

نمازِ فجر کے بعد سورج نکلنے تک نفل پڑھنا دُرست نہیں،(۱) قضا نماز، سجدۂ تلاوت اور نمازِ جنازہ جائز ہے۔(۲) پس فجر کی نماز سے لے کر سورج نکلنے تک کا وقت تو مکروہ نہیں، البتہ اس وقت نماز نفل پڑھنا مکروہ ہے۔ جب سورج کا کنارا طلوع ہوجائے، اس وقت سے لے کر سورج کی زردی ختم ہونے تک کا وقت (قریباً پندرہ، بیس منٹ) مکروہ ہے۔ اس میں فرض، نفل، سجدۂ تلاوت اور نمازِ جنازہ سب منع ہیں۔ ہاں! قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکر و تسبیح، دُرود شریف اس وقت بھی جائز ہے۔ آپ کے سوال کے مطابق اگر محکمہ موسمیات یہ اعلان کرتا ہے کہ آج سورج چھ بجے نکلے گا تو چھ بجے سے لے کر چھ بیس تک کا وقت مکروہ کہلائے گا۔

  1. (۱) إتفق العلماء علٰی أن ثلاثۃ من الأوقات منھی عن الصلاۃ فیھا وھی وقت طلوع الشمس ووقت غروبھا، ومن لدن تصلی صلاۃ الصبح حتّٰی تطلع الشمس۔ (بدایۃ المجتھد ج:۱ ص:۷۳، الفصل الثانی من الباب الأوّل، طبع مکتبہ علمیہ لَاہور)۔
  2. (۲) تسعۃ أوقات یكرہ فیھا النوافل وما فی معناھما لَا الفرائض ھٰكذا فی النھایۃ والكفایۃ فیجوز فیھا قضاء الفائتۃ وصلاۃ الجنازۃ وسجدۃ التلاوۃ كذا فی فتاویٰ قاضیخان ۔۔۔ منھا ما بعد صلاۃ الفجر قبل طلوع الشمس ھٰكذا فی النھایۃ والكفایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۲، ۵۳، كتاب الصلاۃ، الفصل الثالث فی بیان الأوقات التی لَا تجوز فیھا الصلاۃ)۔