اوقاتِنماز
فجر کی نماز کے دوران سورج کا طلوع ہونا
سوال:۔
اگر فجر کے وقت نماز کی نیت باندھنے کے بعد طلوعِ آفتاب کا وقت شروع ہوجائے اور ہمیں یہ بات سلام پھیرنے کے بعد معلوم ہو، تو کیا ہماری یہ نماز ہوجائے گی؟ اور اگر سنت نماز پڑھنے کے بعد طلوعِ آفتاب کا وقت شروع ہوجائے اور اس کے بعد فرض نماز پڑھیں تو کیا یہ نماز ہوجائے گی یا نہیں؟ اور طلوعِ آفتاب کا وقت کتنا ہوتا ہے؟
جواب:۔
اگر فجر کی نماز کے دوران سورج نکل آئے تو نماز فاسد ہوجائے گی،(۱) اِشراق کا وقت ہونے پر دوبارہ پڑھے۔ جب سورج کی زردی ختم ہوجائے اور دُھوپ صاف اور سفید ہوجائے تو اِشراق کا وقت ہوجاتا ہے، اُفق میں سورج کا پہلا کنارا نمودار ہونے سے طلوع کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔
- (۱) وكذا لَا یتصور أداء الفجر مع طلوع الشمس عندنا، حتّٰی لو طلعت الشمس وھو فی خلال الصلاۃ تفسد صلاتہ عندنا۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۱۲۷، كتاب الصلاۃ، فصل فی بیان شرائط الأرکان)۔ أیضًا: أوّل وقت الفجر إذا طلع الفجر الثانی وھو المعترض فی الأفق وآخر وقتھا ما لم تطلع الشمس۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۸۰)۔ أیضًا: ثلاث ساعات لَا تجوز فیھا المكتوبۃ ولَا صلاۃ الجنازۃ ولَا سجدۃ التلاوۃ: إذا طلعت الشمس حتّٰی ترتفع ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۳، كتاب الصلاۃ، الباب الأوّل، الفصل الثالث)۔

