بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اوقاتِ‌نماز

صبحِ صادق کے بعد وتر اور نوافل پڑھنا

سوال:۔

بعض لوگ وتر کی نماز تہجد کے ساتھ پڑھتے ہیں، یہ بتائیں کہ فجر کی اَذان ہونے والی ہو یا اَذان ہو رہی ہو تو اس وقت نمازِ تہجد اور وتر پڑھ سکتے ہیں کہ نہیں؟ جبکہ فجر کی نماز اَذان کے آدھ گھنٹے یا چالیس منٹ کے بعد ہوتی ہے۔

جواب:۔

وتر کی نماز تہجد کے وقت پڑھنا دُرست ہے، بلکہ جس شخص کو تہجد کے وقت اُٹھنے کا پورا بھروسا ہو، اس کے لئے تہجد کے وقت وتر پڑھنا افضل ہے۔(۱) وتر کی نماز صبحِ صادق سے پہلے پڑھ لینا ضروری ہے، صبح ہونے کے بعد وتر کی نماز قضا ہوجاتی ہے، اور اگر کبھی صبحِ صادق سے پہلے نہ پڑھ سکے تو وتر کی نماز صبحِ صادق کے بعد اور نمازِ فجر سے پہلے پڑھ لینا ضروری ہے، لیکن صبحِ صادق کے بعد تہجد پڑھنا یا کوئی اور نفل نماز پڑھنا جائز نہیں۔(۲)

  1. (۱) ویستحب فی الوتر لمن یألف صلاۃ اللیل أن یؤخرھا إلٰی آخر اللیل لقولہ علیہ السلام من طمع أن یقوم آخر اللیل فلیوتر آخرہ فإن صلاۃ اللیل محضورۃ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۵۰، كتاب الصلاۃ، طبع حقانیہ، ملتان)۔
  2. (۲) ویكرہ أن یتنفل بعد طلوع الفجر بأكثر من ركعتی الفجر لأن النبی علیہ السلام لم یزد علیھما ۔۔۔ فقد منع عن تطوع آخر یبقی جمیع الوقت کالمشغول بھما لٰـكن صلٰوۃ فرض آخر فوق ركعتی الفجر فجاز أن یصرف الوقت إلیہ ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۸۴، كتاب الصلاۃ، باب الأوقات التیتکرہ فیھا الصلاۃ، طبع حقانیہ)۔