بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اوقاتِ‌نماز

اَذان کے فوراً بعد نماز گھر پر پڑھنا

سوال:۔

نمازی اگر اکیلا گھر پر نماز پڑھنا چاہتا ہے تو اَذان ہوتے ہی نماز کا وقت ہوجاتا ہے کہ نہیں؟ اَذان کے کتنے وقفے کے بعد نماز شروع کی جائے؟ اس طرح تو وہ نمازی مساجد میں نماز ادا ہونے سے پہلے ہی نماز پڑھ لے گا، ایسا کوئی ضروری حکم تو نہیں ہے کہ اَذان کے کچھ وقفے کے بعد نماز شروع کی جائے یا کہ جیسے ہی اَذان ختم ہو نماز پڑھی جاسکتی ہے؟

جواب:۔

گھر میں اکیلے نماز پڑھنا عورتوں کے علاوہ صرف معذور لوگوں کے لئے جائز ہے،(۱) بغیر عذر کے مسجد کی جماعت کا ترک کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔(۲) اگر اس بات کا اطمینان ہو کہ اَذان وقت سے پہلے نہیں ہوئی تو گھر میں نماز پڑھنے والا اَذان کے فوراً بعد نماز پڑھ سکتا ہے، بلکہ اگر وقت ہوچکا ہو اور اس کو وقت ہوجانے کا پورا اطمینان ہو تو اَذان سے پہلے بھی پڑھ سکتا ہے، جبکہ اَذان، وقت ہونے کے کچھ دیر بعد ہوتی ہو۔(۳)

  1. (۱) فالجماعۃ إنما تجب علی الرجال العاقلین والأحرار القادرین علیھا من غیر حرج فلَا تجب علی النساء والصبیان ۔۔۔إلخ۔ (بدائع ج:۱ ص:۱۵۵، فصل فی بیان من تجب علیہ الجماعۃ)۔
  2. (۲) قال فی شرح المنیۃ: والأحکام تدل علی الوجوب من أن تاركھا بلا عذر یعزر وترد شھادتہ، ویأثم الجیران بالسكوت عنہ۔ (رد المحتار ج:۱ ص:۵۵۲، باب الْإمامۃ)۔
  3. (۳) لأن الأذان للأعلام بدخول وقت الصلاۃ والمكتوبات ھی المختصۃ بأوقات معینۃ۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۱۵۲)۔