اوقاتِنماز
فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کا وقت کب تک رہتا ہے؟
سوال:۔
میں آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ فجر کی نماز سورج نکلتے ہی قضا ہوجاتی ہے، ظہر کا وقت تین بجے تک ہوتا ہے، عصر کا وقت کتنے بجے تک رہتا ہے؟ میں نے مولانا محمد عاشق اِلٰہی صاحب بلندشہری کی کتاب ’’چھ باتیں‘‘ میں پڑھا ہے کہ: ’’سورج چھپنے کے بعد تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ مغرب کا وقت رہتا ہے۔ یہ جو مشہور ہے کہ سورج چھپنے کے بعد ذرا بھی نماز کو دیر ہوجائے تو قضاء ہوجاتی ہے، صحیح نہیں ہے۔‘‘ اور عشاء کا وقت دس بجے شب تک رہتا ہے۔ مہربانی فرماکر تصحیح فرمادیں کہ نمازیں کتنے بجے تک قضا ہوجاتی ہیں (گھڑی کے ٹائم کے مطابق)؟
جواب:۔
فجر کا وقت صبحِ صادق سے لے کر طلوعِ آفتاب تک ہے۔(۱) ظہر کا وقت زوال سے لے کر ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہونے تک (اور بعض حضرات کے قول کے مطابق دومثل ہونے تک ہے)،(۲) یہ وقت ادلتا بدلتا رہتا ہے، اس لئے مسجدوں میں جو نماز کے نقشے لگے رہتے ہیں ان میں روزانہ کا وقت دیکھ لینا چاہئے۔ عصر کا وقت، ظہر کا وقت ختم ہونے سے لے کر غروب تک ہے، لیکن عصر کی نماز میں اتنی دیر کرنا کہ دُھوپ کمزور پڑجائے، مکروہ ہے۔(۳) مغرب کا وقت ایک گھنٹہ بیس منٹ تک رہتا ہے، لیکن بلاوجہ مغرب کی نماز میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔(۴) اور عشاء کا وقت آدھی رات تک بغیر کراہت کے ہے، اور آدھی رات سے صبحِ صادق ہونے تک مکروہ ہے۔(۵) عورتوں کو ہر نماز اوّل وقت میں پڑھنا مستحب ہے۔(۶)
- (۱) وقت الفجر من الصبح الصادق ۔۔۔ إلٰی طلوع الشمس ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۱، كتاب الصلاۃ، الباب الأوّل فی المواقیت)۔ أیضًا: روی فی حدیث جابر وأبی موسٰی وغیرھما رضی اللہ عنھم أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی الفجر حین طلع الفجر فی الیوم الأوّل، وصلّاھا فی الیوم الثانی حین کادت الشمس تطلع، ثم قال للسائل: الوقت فیما بین ھٰذین، وفی حدیث عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: وقت الفجر ما لم تطلع الشمس۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۹۱، ۴۹۲، كتاب الصلاۃ)۔
- (۲) ووقت الظھر من الزوال إلٰی بلوغ الظل مثلیہ سوی الفیٔ۔ كذا فی الکافی وھو الصحیح ھٰكذا فی محیط السرخسی ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۱، كتاب الصلاۃ، الباب الأوّل فی المواقیت وما یتصل بھا)۔ أیضًا: وإذا زالت الشمس فقد دخل وقت الظھر، قال أبوبكر: وذالك لقول اللہ تعالٰی: ﵟ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِدُلُوكِ ٱلشَّمۡسِ ﵞ۔ وروی أن الدلوك الزوال، وروی الغروب وھو علیھا جمیعًا۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۹۲، كتاب الصلاۃ)۔
- (۳) ووقت العصر من صیرورۃ الظل مثلہ غیر فیٔ الزوال إلٰی غروب الشمس۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۱، كتاب الصلاۃ، الباب الأوّل فی المواقیت)۔ ویستحب تأخیر العصر فی كل زمان ما لم تتغیر الشمس ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۲)۔ أیضًا: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن للصلاۃ أوّلًا وآخرًا، وان أوّل وقت الظھر حین تزول الشمس، وان آخر وقتھا حین تدخل وقت العصر۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۹۸)۔ وعن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم: وآخر وقت العصر حین تصفر الشمس۔ (أیضًا ج:۱ ص:۴۹۹ كتاب الصلاۃ)۔
- (۴) ووقت المغرب منہ إلٰی غیبوبۃ الشفق ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۱، كتاب الصلاۃ)۔ ویستحب تعجیل المغرب فی كل زمان كذا فی الکافی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۲)۔ أیضًا: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إن أوّل وقت المغرب حین تسقط الشمس۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۵۰۰ كتاب الصلاۃ)۔ وعن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال ۔۔۔ ووقت المغربب ما لم یسقط نور الشفق۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۵۰۳، كتاب الصلاۃ)۔
- (۵) ووقت العشاء والوتر من غروب الشفق إلی الصبح كذا فی الکافی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۱، الباب الأوّل فی المواقیت)۔ ویكرہ أداء العشاء بعد نصف اللیل، ھٰكذا فی البحر الرائق۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۳)۔ أیضًا: قال أبو جعفر: وإذا خرج وقتھا، تلاہ وقت العشاء الآخرۃ، لما روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ صلّاھا فی الیوم الأوّل بعد ما غاب الشفق، وآخر وقتھا طلوع الفجر، وذالك لأنہ قد روی أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم صلّاھا بعد نصف اللیل، وروی بعد ثلث اللیل، وھما صحیحان جمعیًا۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۵۱۰، كتاب الصلاۃ)۔
- (۶) کان أولٰی للناس أن یصلین فی أوّل الوقت لأنھن لَا یخرجن إلی الجماعۃ۔ (شامی ج:۱ ص:۳۶۷)۔

