نمازکیفرضیتواہمیت
سات سال، دس سال کی عمر میں اگر نماز چھوٹ جائے تو کیا قضا کروائی جائے؟
سوال:۔
میں نے پڑھا ہے کہ سات سال کی عمر میں نماز فرض ہوجاتی ہے، اور دس سال میں اگر بچہ نماز نہ پڑھے تو اسے مارنا چاہئے، جبکہ میرے شوہر کا کہنا ہے کہ: ’’نماز بالغ ہونے پر فرض ہے۔ سات سال کا اس لئے حکم ہے کہ بچہ یا بچی نماز پڑھنا سیکھ جائے، اور آہستہ آہستہ اس کی عادت ہوجائے۔ ایسی صورت میں اگر کسی وقت کی نماز چھوٹ جائے تو اس کی قضا نہیں ہوگی، اور اگر کبھی تھکن یا نیند کی وجہ سے نماز رہ جائے تو گناہ نہ ہوگا، نماز کی قضا بالغ ہونے کے بعد فرض ہونے پر ہے۔‘‘ کیا میرے شوہر کا خیال دُرست ہے؟
جواب:۔
آپ کے شوہر کا خیال صحیح ہے کہ نماز بالغ ہونے پر فرض ہوتی ہے۔ نابالغ پر نماز فرض نہیں، لیکن حدیث شریف میں حکم ہے کہ جب بچے دس سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز نہ پڑھنے پر مارو۔ (اور یہ مارنا ہاتھ سے ہونا چاہئے، لکڑی سے نہیں، اور تین سے زیادہ نہ مارا جائے) اس لئے اگر ان کو عادی بنانے کے لئے ان سے نماز قضا کرائی جائے تو صحیح ہے۔(۱)
- (۱) ھی فرض عین علٰی كل مكلف ۔۔۔ وان وجب ضرب ابن عشر علیھا بید لَا بخشبۃ لحدیث مروا أولَادكم بالصلاۃ وھم أبناء سبع واضربوھم علیھا وھم أبناء عشر، (قولہ بید) أی ولَا یجاوز الثلاث۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۱ ص:۳۵۲)۔

