نمازکیفرضیتواہمیت
نابالغ پر نماز فرض نہ ہونے کے باوجود سختی کا حکم کیوں ہے؟
سوال:۔
قرآن پاک میں حکم ہے کہ ہر ’’بالغ‘‘ مرد وعورت پر پانچ وقت کی نماز فرض کی گئی ہے۔ مگر اَحادیث پاک میں بچوں کو سات سال سے نماز کی تاکید اور دس اور بارہ سال کی عمر میں نماز نہ اَدا کرنے کی صورت میں سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔ میرا سوال یہ ہے جب نماز فرض ہی نہیں ہوئی ہے، پھر سختی اور سزا کا جواز کس طرح پیدا ہوتا ہے؟
جواب:۔
آپ کا کہنا صحیح ہے کہ نابالغ پر نماز فرض نہیں، لیکن یہ سمجھنا صحیح نہیں کہ جو چیز فرض نہ ہو اس پر سختی نہ کی جائے، والدین بچوں کو بہت سی ایسی باتوں پر مارتے ہیں جو فرض وواجب نہیں۔ پھر نابالغ پر تو نماز فرض نہیں، مگر ان کو نماز کا عادی بنانے کے لئے والدین کے ذمہ یہ فرض ہے کہ ان کو نماز پڑھائیں اور بقدرِ تحمل سختی بھی کریں۔ اس لئے والدین کے ذمہ اپنے فرض کی تعمیل لازم ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر بالغ ہونے تک ان کو نماز کا اور دیگر فرائض کا عادی نہ بنایا جائے تو وہ بالغ ہونے کے بعد بھی پابندی نہیں کریں گے۔ اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ بالغ ہونے سے پہلے ان کو نماز کا عادی بناؤ۔(۱)
- (۱) ھی فرض عین علٰی كل مكلف ۔۔۔ وان وجب ضرب ابن عشر علیھا بید لَا بخشبۃ لحدیث مروا أولَادكم بالصلاۃ وھم أبناء سبع واضربوھم علیھا وھم أبناء عشر۔ (الدر المختار مع الرد ج:۱ ص:۳۵۲، كتاب الصلاۃ)۔

