بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کی‌فرضیت‌و‌اہمیت

سرکاری ڈیوٹی کے دوران نماز اَدا کرنا کیسا ہے؟

سوال:۔

ایک سرکاری ملازم ہے، اور وہ ڈیوٹی کے وقت نماز پڑھے تو اس کی نماز میں فرق تو نہیں آئے گا؟ یعنی نماز اس کی ہوگی یا کہ نہیں؟ کیونکہ حکومت کی نگرانی میں ہے اور وہ اس وقت اپنی مزدوری وصول کر رہا ہے؟

جواب:۔

جس اِدارے میں وہ ملازمت کر رہا ہے، ان لوگوں کو خود چاہئے کہ وہ ملازمین کو نماز پڑھنے کے لئے وقت دیں، ملازمت سے نماز ساقط نہیں ہوتی، اگر اِدارے کی طرف سے نماز کے لئے وقت نہیں ملتا تو ملازمت کے اوقات ہی میں نماز پڑھنا ضروری ہے۔(۱) ہاں! اگر اِدارے کی طرف سے نماز کے لئے وقت ملتا ہے، اس میں ملازم سستی کرے اور نماز نہ پڑھے، اور کام کے وقت میں نماز پڑھے، تو یہ دُرست نہیں، اس صورت میں نماز ہوجائے گی، مگر یہ طرزِ عمل دُرست نہیں ہے۔

  1. (۱) عن النواس بن سمعان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ رواہ فی شرح السُّنّۃ۔ (مشكوٰۃ ص:۳۲۱، كتاب الْإمارۃ والقضاء، طبع قدیمی)۔