نمازکیفرضیتواہمیت
مریض پر نماز کیوں معاف نہیں، جبکہ سرکاری ڈیوٹی سے ریٹائرڈ ہونے والے کو پنشن ملتی ہے؟
سوال:۔
ایک شبہ کا جدید ذہن کے مطابق جواب دینا ضروری ہے، مثلاً: ایک صاحب کہتے ہیں کہ گورنمنٹ سرکار کا کوئی ملازم معذور ہوجائے تو اس کا سرکار کی جانب سے معاوضہ ملتا ہے، اور ریٹائر ہوجائے تو پنشن ملتی ہے، یہ عجیب قانونِ خداوندی ہے کہ مریض کی نماز معاف نہیں اور معذور کو فدیہ کا حکم بھی ملتا ہے؟
جواب:۔
قانونِ خداوندی صحیح ہے، سائل کو معذور کا مطلب سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے، نماز کے بارے میں قانون یہ ہے کہ جو شخص کھڑا نہ ہوسکتا ہو، وہ بیٹھ کر پڑھے، اور جو بیٹھ کر نہ پڑھ سکتا ہو، وہ سر کے اِشارے سے پڑھے، اور جو اِشارہ بھی نہ کرسکتا ہو وہ معذور ہے،(۱) اور اگر اس معذوری میں مرگیا تو اس کو آدھی پنشن نہیں ملے گی، بلکہ پوری تنخواہ ملے گی۔
اور روزے کے بارے میں یہ قانون ہے کہ جو شخص روزے پر قادر ہو، وہ روزہ رکھے، اور جو روزے پر قادر نہ ہو، وہ اس کا بدل (فدیہ) ادا کردے،(۲) اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو، وہ معذور ہے، اس سے مؤاخذہ نہیں ہوگا، بلکہ اس کو پورا ثواب ملے گا۔(۳)
سائل کی غلطی یہ ہے کہ اس نے مطلق مریض کو معذور سمجھ لیا، حالانکہ مطلق مریض کسی گورنمنٹ کے قانون میں بھی معذور نہیں۔ معذور وہ ہے جو تمام تر رعایتوں کے باوجود کام کرنے پر قادر نہ ہو، اور قانونِ خداوندی میں معذور کو آدھی پنشن نہیں دی جاتی، بلکہ معذوری کے اَیام کا پورا اَجر وثواب دِیا جاتا ہے۔(۴)
- (۱) وإن عجز المریض عن القیام ۔۔۔ یصلّی قاعدًا یركع ویسجد ۔۔۔ فإن لم یستطع الركوع والسجود ۔۔۔ أومٰی برأسہ ۔۔۔ فإن لم یستطع الْایماء برأسہ لَا قاعدًا ولَا مستقیمًا ولَا مضطجعًا أخرت الصلاۃ ۔۔۔الخ۔ (حلبی كبیر ص:۲۶۱، الثانی القیام، طبع سہیل اكیڈمی لَاھور)
- (۲) والشیخ الفانی الذی لَا یقدر علی الصیام یفطر ویطعم لكلّ یوم مسكینًا كما یطعم فی الكفارات۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۲۲۲، باب ما یوجب القضاء والكفارۃ)۔
- (۳) لو نذر صوم الأبد فضعف عن الصوم لِاشتغالہ بالمعیشۃ لہ أن یفطر ویطعم لأنہ استیقن أن لَا یقدر علٰی قضائہ فإن لم یقدر علی الْإطعام لعسرتہ یستغفر اللہ ویستقیلہ۔ (فتح القدیر ج:۲ ص:۸۳، فصل ومن کان مریضًا فی رمضان)۔
- (۴) عقبۃ بن عامر الجھنی رضی اللہ عنہ یحدث عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قال: لیس من عمل یوم إلّا وھو یختم فإذا مرض المؤمن قالت الملائكۃ: یا ربّنا! عبدك فلان قد حبستہ، فیقول الربّ تعالٰی: اختموا لہ علٰی مثل عملہ حتّٰی یبدأ أو یموت۔ (مستدرك حاكم ج:۴ ص: ۳۰۹ كتاب الرقاق)۔

