بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کی‌فرضیت‌و‌اہمیت

نماز میں خشوع نہ ہو تو کیا نماز پڑھنے کا فائدہ ہے؟ نیز خشوع پیدا کرنے کا طریقہ

سوال:۔

آج کل ایک گروہ ایسا پیدا ہوا ہے جو یہ کہتا ہے کہ اصل مقصد تو دِل میں اللہ تعالیٰ کا نام نقش کرنا ہے، اگر دِل میں اللہ کا نام نقش نہیں تو نماز، روزہ، زکوٰۃ کسی کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے بعض لوگ کہتے ہیں کہ بغیر خشوع وخضوع کے نماز پڑھنا ہی بے کار ہے، اور بہت سے لوگ اس کی وجہ سے پریشان ہیں کہ خشوع والی نماز تو ہمیں نصیب نہیں تو نماز ہی کیوں پڑھی جائے؟

جواب:۔

نماز میں خشوع اور خضوع کا اِہتمام ضرور کرنا چاہئے۔ اکابرؒ فرماتے ہیں کہ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے یہ سوچ لیا جائے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہو رہا ہوں، جس طرح کہ قیامت کے دن میری پیشی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہوگی۔ پھر وہ الفاظ جو نماز میں پڑھ رہا ہے، ان کو سوچ سوچ کر پڑھے، اگر کبھی خیال بھٹک جائے تو پھر متوجہ ہوجائے۔ اس کے مطابق عمل کرے گا تو اِن شاء اللہ کامل نماز کا ثواب ملے گا، اور رفتہ رفتہ خشوع کی حقیقت بھی میسر آجائے گی۔

۲:۔ دِل میں اللہ تعالیٰ کا نقش قائم کرنا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نماز، روزہ اور دیگر عبادات کے ذریعے ہی میسر آسکتا ہے۔ نماز، روزہ کے بغیر دِل میں کیسے نقش قائم ہوسکتا ہے؟ پس جو چیز کہ دِل کے اندر اللہ تعالیٰ کے نام کو نقش کرنے کا ذریعہ ہے، اس کو بے کار کہنا بڑی غلط بات ہے۔

۳:۔ نماز کے اندر خشوع وخضوع حاصل کرنے کا طریقہ تو میں نے اُوپر لکھ دیا ہے، نماز باجماعت کی پابندی کی جائے اور ممکن حد تک خشوع وخضوع کا بھی اِہتمام کیا جائے، لیکن نماز ضرور پڑھتے رہنا چاہئے، خواہ خشوع حاصل ہو یا نہ ہو۔ بزرگوں کا اِرشاد ہے کہ نماز کی پابندی کروگے تو پہلے عادت بنے گی، پھر عبادت بنے گی۔ پس خشوع حاصل کرنے کا طریقہ بھی نماز پڑھتے رہنا ہے۔